کتاب: شرح حدیث ابن عباس - صفحہ 95
ہے کہ جب اسے نعمت عطا کی جاتی ہے تو وہ دعا کرنا ہی بھول جاتا ہے۔ مصیبت میں تو وہ اللہ کو بڑے اخلاص اور بڑی عاجزی انکساری سے پکارتا ہے مگر نعمت مل جانے پر دعا کرنا ہی بھول جاتا ہے۔ بہادر شاہ ظفرؔ نے کیا خوب کہا ہے ؎ ظفرؔ آدمی اس کو نہ جانیے گا وہ ہو کیسا ہی صاحب فہم و ذکا جسے عیش میں یادِ خدا نہ رہی جسے طیش میں خوفِ خدا نہ رہا اس لیے چاہیے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا خوشیوں اور آسائشوں میں شکر ادا کیا جائے اور اس کی اطاعت و فرماں برداری سے غفلت نہ برتی جائے تاکہ مصائب میں اس کی مدد شامل حال رہے۔ دنیوی مصائب میں سب سے بڑی شدت اور سختی موت کے وقت ہوتی ہے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( لَمْ یَلْقَ ابْنُ آدَمَ شَیْئًا قَطُّ مُنْذُ خَلَقَہُ اللّٰہُ أَشَدَّ عَلَیْہِ مِنَ الْمَوْتِ، قَالَ: ثُمَّ إِنَّ الْمَوْتَ لَأَھْوَنُ مِمَّا بَعْدَہٗ )) [1] ’’جب سے اللہ تعالیٰ ابن آدم کو پیدا کرتے ہیں تب سے لے کر اس کے لیے موت سے زیادہ سخت اور کوئی چیز نہیں۔ فرمایا: پھر موت بہت ہلکی ہے اس سے جو کچھ موت کے بعد ہونے والا ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے بھی فرمایا ہے: ﴿وَجَاءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ ﴾ [قٓ: ۱۹] ’’اور موت کی سختی حق (یعنی قیامت) لے کر پہنچ گئی۔‘‘ سید الاوّلین و الآخرین سیدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں آتا ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر آخری وقت آیا تو آپ ہاتھ مبارک پانی میں ڈال کر چہرۂ انور پر ملتے اور فرماتے: [1] أحمد (۳/ ۱۵۴) و رجالہ موثقون۔ المجمع (۲/ ۳۱۹).