کتاب: شرح حدیث ابن عباس - صفحہ 92
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ ’’سُبحْۃ‘‘ نفلی نماز کے معنی میں اس لیے ہے کہ فرض نمازوں میں تسبیحات نفل ہیں اور نفلی نماز کو ’’سُبحْۃ‘‘ اس لیے کہا گیا ہے کہ وہ فرض نمازوں میں بمنزلہ تسبحات کے ہیں۔[1] حضرت ضحاک بن قیس رضی اللہ عنہ ، جن کا شمار جرنیل اور صغار صحابہ میں ہوتا ہے، نے خطبے کے دوران منبر پر ارشاد فرمایا: ’’أُذْکُرُوْا اللّٰہَ فِيْ الرَّخَائِ، یَذْکُرْکُمْ فِيْ الشِّدَّۃِ، أَنَّ یُوْنُسَ کَانَ عَبْدًا ذَاکِرًا فَلَمًّا أَصَابَتْہُ الشِّدَّۃُ قَالَ اللّٰہُ:﴿ الْمُسَبِّحِينَ (143) لَلَبِثَ فِي بَطْنِهِ إِلَى يَوْمِ يُبْعَثُونَ ﴾۔‘‘ اللہ تعالیٰ کو خوش حالی میں یاد کرو، وہ تمھیں تکلیف کے وقت یاد رکھے گا، سیدنا یونس علیہ السلام اللہ کے ذاکر بندے تھے جب مصیبت میں مبتلا ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اگر وہ تسبیح کرنے والوں میں نہ ہوتا تو جس دن تک لوگ (دوبارہ زندہ ہو کر) اٹھائے جائیں گے اسی کے پیٹ میں رہتا۔‘‘ اس کے بعد انھوں نے یہ بھی فرمایا کہ ان کے مقابلے میں فرعون سرکش و باغی تھا جب وہ غرق ہونے لگا تو اس نے کہا میں ایمان لایا کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں اور میں فرماں برداروں میں سے ہوں۔ تو اسے جواب دیا گیا: ﴿آلْآنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ وَكُنْتَ مِنَ الْمُفْسِدِينَ ﴾ [یونس: ۹۱] ’’کیا اب؟ حالانکہ بے شک تُو نے اس سے پہلے نافرمانی کی اور تُو فساد کرنے والوں سے تھا۔‘‘ یہ ساری بات کہہ کر حضرت ضحاک بن قیس نے فرمایا: اللہ کو خوش حالی میں یاد کرو، وہ تمھیں تکلیف کے وقت یاد رکھے گا۔[2] [1] فتح الباري (۳/ ۵۵۔ ۵۶، تحت رقم: ۱۱۷۷). [2] تفسیر ابن جریر (۲۳/ ۱۰۰).