کتاب: شرح حدیث ابن عباس - صفحہ 88
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہی سے مروی ایک اور حدیث قدسی میں ہے: (( أَنَا مَعَ عَبْدِيْ إِذَا ھُوَ ذَکَرَنِيْ تَحَرَّکَتْ بِيْ شَفتَاہُ )) [1] ’’جب تک میرا بندہ میرے ذکر میں رطب اللسان ہے اور اس کے ہونٹ میرے ذکر سے ہلتے رہتے ہیں، میں اس کے پاس ہوتا ہوں۔‘‘ اور اذکار میں سب سے افضل قرآن مجید کی تلاوت ہے۔ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’مَنْ أَحَبَّ أَنْ یَّعْلَمَ أَنَّہُ یُحِبُّ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہُ فَلْیَنْظُرْ، فَإِنْ کَانَ یُحِبُّ الْقُرْآنَ فَإِنَّہُ یُحِبُّ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہُ‘‘[2] ’’جو یہ معلوم کرنا چاہتا ہے کہ وہ الله اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے، اسے چاہیے کہ وہ غور کرے، اگر وہ قرآن سے محبت کرتا ہے تو وہ بے شک الله اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے۔‘‘ قرآن پاک سے محبت اور ذکر و اذکار کی فضیلت کا باب بڑا طویل ہے اور یہ یہاں ہمارا موضوع بھی نہیں۔ مقصد صرف یہ ہے کہ الله کے قرب و محبت کا ایک ذریعہ قرآنِ مجید سے محبت اور ذکر کا اہتمام ہے۔ جب دل اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی محبت و عظمت سے لبریز ہوتا ہے تو اس کا نفس، اس کا ارادہ، اس کی سب تمنائیں اللہ ہی کے لیے ہوکے رہ جاتی ہیں۔ وہ اسی کا بول بولتا ہے، اسی کے حکم کی پابندی کرتا ہے، اسی کی بات سنتا ہے، اس کی طرف لپکتا ہے، اسی کی طرف اس کی نظر اُٹھتی ہے جسے دیکھنے کی اجازت ہے۔ اس کی زبان ذاکر، دل شاکر، اس کے اعضاء و جوارح اطاعت گزار بن جاتے ہیں۔ [1] ابن حبان، ابن ماجہ (۳۷۹۲). [2] الآداب للبیھقي (ص: ۵۲۲).