کتاب: شرح حدیث ابن عباس - صفحہ 87
لأَُعْطِیَنَّہُ، وَلَئِنِ اسْتَعَاذَنِيْ لأَُعِیْذَنَّہُ )) [1] ’’میرا بندہ میرے فرض کردہ اُمور کے سوا کسی اور چیز کے ذریعے سے میرا زیادہ قرب حاصل نہیں کر سکتا، میرا بندہ نوافل کے ذریعے میرے قریب ہوتا رہتا ہے تاآنکہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں، جب میں اس سے محبت کرتا ہوں تو میں اس کا کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے اور اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے اور اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے اور اس کا پاؤں بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے اور اگر وہ مجھ سے مانگے تو میں اسے ضرور ضرور دیتا ہوں اور اگر مجھ سے پناہ مانگے تو میں اسے ضرور ضرور پناہ دیتا ہوں۔‘‘ جس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے قرب کا سب سے اولین اور سب سے بڑا ذریعہ فرائض کی پابندی ہے۔ فرائض کی ادائیگی سے بڑھ کر کوئی عمل اللہ کے قرب کا باعث نہیں ہے۔ فرائض سے یہاں نماز، زکاۃ، روزہ، حج ہی نہیں بلکہ وہ تمام اُمور ہیں جن کی ادائیگی فرض اور جن کا ارتکاب حرام ہے۔ اور نوافل سے مراد نفلی نماز بالخصوص تہجد، نفلی صدقہ، نفلی روزہ، نفلی حج اور اس کے علاوہ بہ کثرت اللہ تعالیٰ کا ذکر ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث قدسی میں ہے: (( أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِيْ بِيْ، وَأَنَا مَعَہُ إِذَا ذَکَرَنِيْ )) [2] ’’میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق اس سے معاملہ کرتا ہوں۔ جب وہ مجھے یاد کرے میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں۔‘‘ [1] صحیح البخاري (۶۵۰۲). [2] صحیح البخاري (۷۴۰۵) صحیح مسلم (۲۶۷۵).