کتاب: شرح حدیث ابن عباس - صفحہ 86
نہیں ہوتا۔ ایک اللہ والے نے اپنے دوست کو خط لکھا: ’’فَإِنْ کَانَ اللّٰہُ مَعَکَ فَمَنْ تَخَافُ؟ وَإِنْ کَانَ عَلَیْکَ فَمَنْ تَرْجُوْ؟ ‘‘ ’’اگر اللہ تیرے ساتھ ہے تو تم کس سے ڈرتے ہو؟ اور اگر وہ تیرے خلاف ہے تو تم کس سے امید رکھتے ہو؟ یہی وہ حقیقت ہے جو اس دعا میں بیان ہوئی ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو سکھلائی تھی: (( إِنَّہٗ لَا یَذِلُّ مَنْ وَّالَیْتَ وَ لَا یَعِزُّ مَنْ عَادَیْتَ )) [1] ’’تو جس کا دوست ہو وہ رسوا نہیں ہوتا اور تیرا مخالف کبھی عزت نہیں پاتا۔‘‘ کیوں کہ وہی جسے چاہتا ہے عزت عطا فرماتا ہے اور جسے چاہتا ذلیل و رسوا کر دیتا ہے۔[2] یہ معیت خاصہ یا یہ قرب الٰہی حاصل ہوتا ہے اللہ تبارک و تعالیٰ کے فرائض کی بجا آوری سے اور بہ کثرت نوافل پڑھنے سے جیسا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث قدسی میں مروی ہے: (( وَمَا تَقَرَّبَ إِلَيَّ عَبْدِیْ بِشَيْئٍ أَحَبَّ إِلَيَّ مِمَّا افْتَرَضْتُ عَلَیْہِ، وَمَا یَزَالُ عَبْدِيْ یَتَقَرَّبُ إِلَیَّ بِالنَّوَافِلِ حَتَّی أُحِبَّہُ، فَإِذَا أَحْبَبْتُہُ کُنْتُ سَمْعَہُ الَّذِيْ یَسْمَعُ بِہِ، وَبَصَرَہُ الَّذِيْ یُبْصِرُ بِہِ، وَیَدَہُ الَّتِيْ یَبْطُشُ بِہَا وَرِجْلَہُ الَّتِی یَمْشِيْ بِہَا، وَإِنْ سَأَلَنِيْ [1] أبو داود (۱۴۲۵) ترمذي وغیرہ. [2] آل عمران (۲۶).