کتاب: شرح حدیث ابن عباس - صفحہ 83
حدیث قدسی ہے: جو ایک بالشت میری طرف آتا ہے میں ایک ہاتھ اس کی طرف آتا ہوں، جو ایک ہاتھ آتا ہے میں اس کی طرف دو ہاتھ قریب آتا ہوں اور جو چل کر آتا ہے میں اس کی طرف دوڑ کر آتا ہوں۔[1] اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿إِنْ تَنْصُرُوا اللّٰه يَنْصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ ﴾ [محمد: ۷] ’’اگر تم اللہ (کے دین) کی مدد کرو تو وہ تمھاری مدد کرے اور تمھیں ثابت قدم رکھے گا۔‘‘ اسی طرح فرمایا: ﴿وَلَيَنْصُرَنَّ اللّٰه مَنْ يَنْصُرُهُ ﴾ [الحج: ۴۰] ’’اور یقینا اللہ ضرور اُس کی مدد کرے گا جو اس (کے دین کی) مدد کرے گا۔‘‘ جو اللہ کی ملاقات چاہتا ہے، اللہ اس کی ملاقات چاہتا ہے۔[2] اس لیے جو اللہ کے دین کی حفاظت کرے گا اس کے حقوق و حدود کی نگہبانی کرے گا اللہ تعالیٰ اسے ضایع نہیں کرے گا اس کے ایمان اور اس کی جان کی حفاظت کرے گا اور جس کی حفاظت کی ضمانت اللہ تعالیٰ دے دیں اللہ اس کے لیے کافی ہے۔ [1] صحیح البخاري (۷۵۳۶). [2] صحیح البخاري (۶۵۰۷).