کتاب: شرح حدیث ابن عباس - صفحہ 81
رضا کے لیے کیا تھا تو ذرا سا پتھر اور نیچے کر دے تو دو تہائی پتھر سرک گیا۔[1] اسی نوعیت کا ایک واقعہ کفل نامی شخص کا بھی جامع ترمذی وغیرہ میں ہے کہ اس نے ایک عورت کو ساٹھ دینار دے کر اُسے برائی پر آمادہ کیا جب وہ برائی کے اِرتکاب کے لیے آگے بڑھا تو وہ عورت کانپ اٹھی، کفل نے کہا: کیا میں نے تمھیں مجبور کیا ہے؟ اس نے کہا نہیں، مگر میں نے ایسا عمل کبھی کیا نہیں میری غربت کی مجبوری نے مجھے اس پر آمادہ کیا ہے۔ اس نے کہا: تو اللہ سے ڈرتی ہے، مگر میں اس سے نہیں ڈرتا؟ وہ وہاں سے اٹھا اور کہا جاؤ یہ ساٹھ دینار میں نے تمھیں ہبہ کردیے۔ (اس کا اُس پر اس قدر اثر ہوا کہ) کہنے لگا اللہ کی قسم آئندہ میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہیں کروں گا۔ مگر ہوا یوں کہ وہ اسی رات فوت ہو گیا۔ لوگوں نے دیکھا کہ اس کے دروازے پر لکھا ہوا تھا: ’’قَدْ غَفَرَ اللّٰہُ الْکِفْلَ‘‘[2] ’’اللہ نے کفل کو معاف کر دیا ہے۔‘‘ امام ترمذی نے گو اسے حسن کہا ہے مگر اس میں ضعف ہے کیوں کہ سعد مولیٰ طلحہ کے بارے میں امام ابوحاتم نے فرمایا ہے: ’’لا أعرفہ‘‘ صرف ابن حبان نے اسے ثقات میں ذکر کیا ہے۔ حافظ ابن حجر نے اسے مجہول کہا ہے۔[3] علامہ ابن کثیر نے فرمایا ہے: ’’ہو حدیث غریب جدا‘‘[4] ’’یہ بہت ہی غریب حدیث ہے۔‘‘ حافظ ابن رجب نے ذکر کیا ہے کہ ایک شخص جھاڑیوں میں گیا اور کہنے لگا یہاں میں اگر کوئی گناہ کر لوں تو مجھے کوئی دیکھنے والا نہیں۔ اچانک سنتا ہے کہ جھاڑیوں میں سے یہ آواز آ رہی ہے: [1] صحیح البخاري (۲۲۱۵، ۲۲۷۲) صحیح مسلم وغیرہ. [2] مسند إمام أحمد (۲/ ۲۳) ترمذي (۲۴۹۶). [3] تقریب (ص: ۱۱۹). [4] البدایۃ (۱/ ۲۲۶).