کتاب: شرح حدیث ابن عباس - صفحہ 80
لہٰذا تو میرے اور میرے گناہوں کے درمیان رکاوٹ بن جا۔‘‘ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو یہ الفاظ بڑے بھلے لگے اور اس کے لیے دعائے خیر کی۔[1] انسان برائی سے بچنا چاہے تو اس سے بچنے کی کوئی نہ کوئی سبیل اللہ تعالیٰ پیدا فرما دیتے ہیں۔ حافظ ابن رجب نے ذکر کیا ہے ایک شخص نے عورت کو برائی کے لیے آمادہ کیا اور اسے گھر کے دروازے بند کردینے کا کہا، چنانچہ اس نے سارے دروازے بند کر دیے، پھر کہنے لگی کہ سب دروازے بند کر دیے ہیں مگر ایک دروازہ کھلا ہے بند نہیں ہو سکا۔ اس نے کہا: کون سا دروازہ؟ تو وہ کہنے لگی آسمان کا دروازہ بند نہیں ہوا جو ہمارے اور ہمارے اللہ کے درمیان ہے۔ یہ سننا تھا کہ اس آدمی کی کایا پلٹ گئی اور اس نے اس عورت سے کوئی تعرض نہ کیا۔ صحیحین میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین ساتھی جا رہے تھے بارش برسنے لگی تو وہ بارش سے بچنے کے لیے ایک غار میں چلے گئے، ادھر ایک پتھر گرا تو غار کا مُنھ بند ہو گیا تو انھوں نے کہا ہم میں سے ہر ایک اپنے افضل ترین عمل کے توسط سے دعا کرے کہ اللہ تعالیٰ غار کا مُنھ کھول دے چنانچہ ان میں سے ایک نے یوں دعا کی کہ اے اللہ! آپ جانتے ہیں کہ میں اپنے چچا کی بیٹی سے شدید محبت کرتا تھا میں نے اس سے اپنی خواہش پوری کرنا چاہی تو اس نے (گویا اس سے بچنے کے لیے کہا) یہ تبھی ہو گا جب تو مجھے ایک ہزار دینار دے گا، میں نے کوشش کر کے ایک ہزار دینار جمع کیے اور اسے جا دیے، جب میں اس کے دونوں پاؤں کے درمیان بیٹھا تو اس نے کہا: اللہ سے ڈرو اور اس مہر کو ناجائز طور سے مت توڑو۔ میں یہ سن کر کھڑا ہو گیا اس کو چھوڑ دیا، یا اللہ! اگر یہ کام میں نے تیری [1] نور الاقتباس.