کتاب: شرح حدیث ابن عباس - صفحہ 79
ہیں وہ انھیں جس طرح چاہتا ہے بدل دیتا ہے۔[1] انسان جب اپنا دل ٹیڑھا کر لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس سے ہدایت کی توفیق سلب کر لیتا ہے جیسے فرمایا: ﴿فَلَمَّا زَاغُوا أَزَاغَ اللّٰه قُلُوبَهُمْ ﴾ [الصف: ۵] ’’جب وہ ٹیڑھے ہوگئے تو اللہ نے ان کے دلوں کو ٹیڑھا کردیا۔‘‘ لیکن جب انسان اطاعت اور بندگی کی راہ اختیار کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے دین پر چلنا آسان فرما دیتا ہے۔ جیسے فرمایا: ﴿فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى (5) وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَى (6) فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَى (7) وَأَمَّا مَنْ بَخِلَ وَاسْتَغْنَى (8) وَكَذَّبَ بِالْحُسْنَى (9) فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْعُسْرَى ﴾ [اللیل: ۵۔ ۱۰] ’’پس وہ جس نے (اللہ کی راہ میں مال) دیا اور (نافرمانی) سے بچا اور اس نے سب سے اچھی بات کی تصدیق کی تو یقینا ہم اسے آسان (جنت کے) راستے کے لیے سہولت دیں گے اور لیکن وہ جس نے بخل کیا اور بے پروا ہوا اور اس نے سب سے اچھی بات کو جھٹلایا تو یقینا ہم اسے مشکل (جہنم کے) راستے کے لیے سہولت دیں گے۔‘‘ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے سنا کہ ایک صاحب دعا کر رہا ہے: (( اَللّٰہُمَّ إِنَّکَ تَحُوْلُ بَیْنَ الْمَرْئِ وَ قَلْبِہٖ، فَحَلِّ بَیْنِيْ وَ بَیْنَ مَعَاصِیْکَ )) ’’اے اللہ! تو آدمی کے اور اس کے دل کے مابین رکاوٹ بن جاتا ہے، [1] مسلم، ترمذی، أحمد وغیرہ.