کتاب: شرح حدیث ابن عباس - صفحہ 73
’’تم نے اسے غیر محمل پر محمول کیا ہے، اس کا مفہوم یہ ہے کہ انھوں نے ’’ربنا اللّٰہ‘‘ کہا پھر اللہ کے سوا کسی اور معبود کی طرف التفات نہیں کیا۔‘‘ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے یہی آیت منبر پر تلاوت فرمائی تو فرمایا: ’’لَمْ یَرُوْغُوْا رَوَغَانَ الثَّعْلَبِ‘‘[1] ’’اس کے معنی یہ ہیں کہ ’’ ربنا اللّٰہ‘‘ کہا پھر لومڑی کی طرح اِدھر اُدھر نہیں جھانکا۔‘‘ یعنی اِدھر اُدھر جائے بغیر سیدھی راہ پر چلا جائے۔ جس کی دوسری حدیث میں وضاحت فرما دی گئی ہے۔ چنانچہ حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے لیے ایک لکیر کھینچی پھر فرمایا: یہ اللہ کا سیدھا راستہ ہے۔ پھر اس کے دائیں بائیں کئی لکیریں کھینچیں اور فرمایا: یہ الگ الگ راستے ہیں ان میں سے ہر راہ پر شیطان بیٹھا ہے جو لوگوں کو اپنی طرف بلاتا ہے۔ اس کے بعد آپ نے سیدھی راہ پر دست مبارک رکھا اور یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿وَأَنَّ هَذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ ﴾ [الأنعام: ۱۵۳] ’’بے شک یہی میرا راستہ ہے سیدھا، پس اس پر چلو۔‘‘ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ﴿ثُمَّ اسْتَقَامُوا ﴾ کے معنی یہ ہیں کہ ’’ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا عَلٰی أَدَائِ فَرَائِضِہٖ‘‘ یعنی وہ اس کے فرائض کی ادائیگی پر جمے رہیں، زندگی بھر یہ عہد وفا نبھاتے رہیں۔ مومن کی زندگی اسی کی آئینہ دار ہے اور اسے اسی کا حکم ہے: ﴿وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّى يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ﴾ [الحجر: ۹۹] [1] جامع العلوم و الحکم لابن رجب (ص: ۱۷۸).