کتاب: شرح حدیث ابن عباس - صفحہ 68
حضرت ابوعبیدہ نے ہم میں سے تیرہ افراد کو اس کی آنکھ کے گڑھے میں بٹھا دیا، پھر سب سے بڑا اونٹ منگوا کر اس پر طویل القامت شخص کو بٹھایا اور وہ اس مچھلی کی ایک پسلی کے نیچے سے گزر گیا۔ واپسی پر ہم اس کا گوشت مدینہ طیبہ لے آئے اور ہم نے سارا قصہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا تو آپ نے ارشاد فرمایا: (( ھُوَ رِزْقٌ أَخْرَجَہُ اللّٰہُ لَکُمْ )) ’’یہ وہ رزق تھا جسے اللہ نے تمھارے لیے نکالا تھا۔‘‘ پھر فرمایا: تمھارے پاس اس کا گوشت ہے تو ہمیں بھی کھلاؤ، چنانچہ ہم نے آپ کی خدمت اقدس میں کچھ بھیج دیا تو آپ نے اسے تناول فرمایا۔[1] یہ اور اس نوعیت کے بہت سے واقعات اس بات کی واضح دلیل ہیں کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کے دین کی حفاظت کرتا اور اس پر عمل کرتا ہے، اللہ کی راہ میں نکلتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی حفاظت فرماتے ہیں اور اس کی ضروریات کی کفالت کرتے ہیں مگر جو اللہ تعالیٰ سے بغاوت اختیار کرتا ہے تو اس کے خدام بھی اس سے بغاوت کرتے ہیں۔ بعض حضرات نے فرمایا ہے: ’’إِنِّيْ لَأَعْصِيْ اللّٰہَ فَأَرٰی ذٰلِکَ فِيْ خُلُقِ دَابَّتِيْ وَامْرَأَتِيْ‘‘[2] ’’میں اللہ کی نافرمانی کرتا ہوں تو اس کا اثر اپنے جانور اور اپنی بیوی میں پاتا ہوں۔‘‘ رزق کی برکت ختم ہو جاتی ہے، اللہ تعالیٰ کی حفاظت نہیں رہتی، اللہ کی لعنت کا مستحق قرار پاتا ہے۔ اس حوالے سے شائقین حافظ ابن قیم کی ’’الداء و الدواء‘‘ جس کا دوسرا نام ’’الجواب الکافي لمن سأل عن الدواء الشافي‘‘ ہے، ملاحظہ فرمائیں۔ [1] صحیح مسلم (۱۹۳۵). [2] الداء و الدواء (ص: ۷۴، ۱۲۹).