کتاب: شرح حدیث ابن عباس - صفحہ 64
کے بیٹوں اور پوتوں کی بھی حفاظت فرماتے ہیں بلکہ جس بستی میں وہ رہتا ہے اس بستی والے بھی اس سے مستفید ہوتے ہیں۔[1] حمید بن ہلال ایک صحابیِ رسول سے روایت کرتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو انھوں نے مجھے ایک گھر دکھایا اور فرمایا: ایک عورت اس گھر میں رہتی ہے وہ مسلمانوں کے لشکر کے ہمراہ گئی، بارہ بکریاں اور ایک کپڑا بننے والا کونچ گھر چھوڑ گئی، ایک بکری اور کونچ گھر سے گم ہو گیا تو اس نے کہا: بارِ الٰہا! آپ نے ضمانت دی ہے کہ جو میری راہ میں نکلے گا میں اس کے پیچھے اس کا نگران و محافظ ہوں، میری بکری اور کونچ گم ہو گیا ہے اور ان کے متعلق میں آپ کو آپ کا وعدہ یاد دلاتی ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے اپنے اللہ سے مطالبے کا بڑی شدت سے ذکر کیا اور فرمایا: صبح اسے اس کی بکری بلکہ اس جیسی ایک اور بکری اور اسی طرح دو کونچ مل گئے۔ تم چاہتے ہو تو جاؤ اس کی تفصیل اس عورت سے پوچھ لو۔ اس صحابی نے عرض کیا (اس سے تصدیق کی ضرورت نہیں) آپ نے جو فرمایا میں اس کی تصدیق کرتا ہوں۔[2] شیخ شیبان الراعی بکریاں چراتے تھے، جمعے کا دن آتا تو وہ بکریوں کے اردگرد لکیر کھینچ دیتے اور جمعہ پڑھنے چلے جاتے واپس آتے تو تمام بکریاں وہیں ہوتیں جہاں انھیں چھوڑ کر گئے ہوتے۔[3] جو اللہ کا اطاعت گزار بن جاتا ہے اللہ سبحانہ و تعالیٰ اس کی پریشانیوں اور مشکلات سے نکلنے کی کوئی نہ کوئی سبیل پیدا فرما دیتا ہے، جیسا کہ فرمایا ہے: [1] ابن أبي شیبۃ، ابن المبارک، الدر المنثور (۴/ ۲۳۵). [2] مسند أحمد (۵/ ۶۷) مجمع الزوائد (۵/ ۲۷۷) علامہ ہیثمی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ اس کے راوی ’’صحیح‘‘ کے راوی ہیں۔ [3] حلیۃ الأولیاء (۸/ ۳۱۷).