کتاب: شرح حدیث ابن عباس - صفحہ 63
والے ہی سے خاص نہیں بلکہ اس کا اثر بسا اوقات آل اولاد پر بھی ہوتا ہے، چنانچہ سورۃ الکہف میں حضرت موسیٰ علیہ السلام اور جناب خضر علیہ السلام کی ملاقات میں جو تین واقعات پیش آئے ان میں ایک یہ تھا کہ حضرت خضر علیہ السلام نے بلا معاوضہ دیوار قائم کر دی جو گرنے والی تھی، حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پوچھنے پر کہ آپ نے بلامعاوضہ ایسا کیا، اگر آپ چاہتے تو معاوضہ لے سکتے تھے، جواب میں حضرت خضر علیہ السلام نے فرمایا: ﴿وَأَمَّا الْجِدَارُ فَكَانَ لِغُلَامَيْنِ يَتِيمَيْنِ فِي الْمَدِينَةِ وَكَانَ تَحْتَهُ كَنْزٌ لَهُمَا وَكَانَ أَبُوهُمَا صَالِحًا فَأَرَادَ رَبُّكَ أَنْ يَبْلُغَا أَشُدَّهُمَا وَيَسْتَخْرِجَا كَنْزَهُمَا رَحْمَةً مِنْ رَبِّكَ ﴾ [الکہف: ۸۲] ’’اور اس دیوار کا معاملہ یہ ہے کہ یہ دو یتیم بچوں کی ہے جو اس شہر میں رہتے ہیں، اس دیوار کے نیچے ان بچوں کے لیے ایک خزانہ مدفون ہے اور ان کا باپ ایک نیک آدمی تھا، اس لیے تیرے رب نے چاہا کہ یہ دونوں بچے بالغ ہوں اور اپنا خزانہ نکال لیں، یہ تمھارے رب کی رحمت کی بنا پر کیا گیا ہے۔‘‘ والد کی صالحیت کا نتیجہ یہ نکلا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی اولاد کے خزانے کی حفاظت کروا دی، یہ اس بات کی بیّن دلیل ہے کہ بسا اوقات والدین کی نیکی کے اثر سے اولاد بھی مستفید ہوتی ہے اور ان کی دعاؤں سے اولاد بہت سی برکتیں سمیٹتی ہے اور والدین کی آنکھوں کی ٹھنڈک بنتی ہے۔ امام سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے اپنے بیٹے سے فرمایا: بیٹا! میں تیری خاطر نماز لمبی پڑھتا ہوں تاکہ اللہ تعالیٰ تیری حفاظت فرمائے پھر انھوں نے سورۃ الکہف کی یہی آیت تلاوت فرمائی: ﴿وَكَانَ أَبُوهُمَا صَالِحًا ﴾ (ان کا باپ ایک نیک آدمی تھا)۔ [1] امام محمد بن منکدر فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ نیک آدمی [1] نور الاقتباس.