کتاب: شرح حدیث ابن عباس - صفحہ 61
تھا وہ ساتھ چھوڑ جاتی ہے، حتیٰ کہ بچوں کی طرح دوسرے کے سہارے پر اٹھتا بیٹھتا ہے، بستر پر بول وبراز نکل جاتا ہے، بچوں کی طرح کپڑے تبدیل کیے جاتے ہیں۔ اپنے آپ کھانے پینے اور پہننے سے لاغر ہو جاتا ہے۔ اسی کو ’’ارذل العمر‘‘ سے تعبیر کیا گیا ہے: ﴿مِنْكُمْ مَنْ يُرَدُّ إِلَى أَرْذَلِ الْعُمُرِ لِكَيْ لَا يَعْلَمَ بَعْدَ عِلْمٍ شَيْئًا ﴾ [الحج: ۵] ’’اور تم میں سے کوئی وہ ہے جو سب سے نکمی عمر کی طرف لوٹایا جاتا ہے، تاکہ وہ جاننے کے بعد کچھ نہ جانے۔‘‘ اسی حقیقت کا بیان سورۃ النحل (آیت: ۷۰) میں ہوا ہے۔ حضرات انبیائے کرام علیہم السلام ارذل العمر کی اس کیفیت سے تو محفوظ ہوتے ہیں، مگر بڑھاپے کے ضعف و کمزوری سے اسی طرح دوچار ہوتے ہیں جیسے گرمی، سردی، بھوک، پیاس اور تھکن، بیماری کے عوارضات سے دوچار ہوتے ہیں۔ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تیرہ رکعت وتر پڑھتے تھے: ’’فَلَمَّا کَبُرَ وَضَعْفَ أَوْتَرَ بِسَبْعٍ‘‘[1] ’’پھر جب بوڑھے اور کمزور ہو گئے تو وتر سات رکعت پڑھتے تھے۔‘‘ یہی روایت ’’صحیح مسلم‘‘ (رقم: ۷۴۶) میں مروی ہے جس میں ’’فلما أسن‘‘ کے الفاظ ہیں کہ جب آپ بڑی عمر کے ہو گئے تو وتر سات رکعت پڑھتے تھے۔ علامہ ملا علی قاری نے فرمایا ہے کہ یہاں بالوں کی سفیدی نہیں بلکہ ’’آثار الضعف‘‘ مراد ہیں، بال تو چند گنتی کے سفید ہوئے تھے۔[2] حضرت عائشہ صدیقہ ام المومنین رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آخری بیماری میں تھے، عبدالرحمان بن ابی بکر مسواک لیے حاضر ہوئے: ’’فَضَعْفَ النبي صلي اللّٰه عليه وسلم عَنْہٗ‘‘ ’’تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کمزوری کے باعث اسے چبا نہ سکے۔‘‘ میں نے چبا کر اسے نرم کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسواک کی۔[3] [1] ترمذي مع تحفہ (۱/ ۳۳۷). [2] تحفۃ الاحوذي. [3] صحیح البخاري (۳۱۰۰).