کتاب: شرح حدیث ابن عباس - صفحہ 59
’’میں نے اپنے کسی عضو کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی کوئی نافرمانی نہیں کی۔‘‘ حضرت زِر بن حُبیش کی عمر ۱۲۷ سال تھی، سوید بن غفلہ کی عمر ۱۲۰ سال تھی اور وہ نماز تراویح پڑھاتے تھے۔ عبدالرحمان بن مل ابو عثمان نہدی کی عمر ۱۳۰ سال تھی، سلیمان تیمی کا بیان ہے کہ میرا خیال ہے ابوعثمان سے کوئی گناہ سرزد نہیں ہوا وہ رات کا قیام اور دن کا روزہ رکھتے تھے۔ معرور بن سوید کی عمر ۱۲۰ سال تھی، ابو عمرو زیاد بن طارق بھی ۱۲۰ سال کے تھے اور وہ حدیث بیان کرتے تھے۔[1] کثیر النواء کا بیان ہے کہ ابو مریم الانصاری ۱۵۰ سال کے تھے جب میں نے ان سے حدیث سنی۔[2] اتنی طویل عمر میں درس و تدریس کا یہ سلسلہ اللہ تعالیٰ کا خاص انعام ہے۔ اہلِ علم و فضل کا وقار اور عزت بلاشبہ کبر سنی میں بڑھ جاتی ہے اور ان کی قدر دانی میں اضافہ ہوتا ہے۔ لیکن ’’ارذل العمر‘‘ کے عارضے سے دوچار ہونے والے اہلِ علم بھی گزرے ہیں، مثلاً: عطاء بن سائب، سعید بن ایاس بصری، سعید بن ابی عروبہ، حصین بن عبدالرحمان السُلَمِي، محمد بن فضیل ابو نعمان عارم، عبدالرحمان بن عبداللہ بن عتبہ المسعودی، محمد بن فضل ابو طاہر وغیرہ جیسے اساطین علم اختلاط و اختلال کا شکار ہوئے۔ بڑھاپے کے انھی عوارض کے باعث ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑھاپے سے پناہ طلب کی ہے، چنانچہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے بعد یہ دعا پڑھتے تھے: (( اَللّٰہُمَّ إِنِّيْ أَعُوْذُبِکَ مِنَ الْجُبْنِ وَ أَعُوْذُبِکَ مِنَ الْبُخْلِ وَ أَعُوْذُبِکَ مِنْ أَنْ أَرُدَّ إِلٰی أَرْذَلِ الْعُمُرِ وَ أَعُوْذُبِکَ مِنْ فِتْنَۃِ الدُّنْیَا وَ أَعُوْذُبِکَ مِنْ فِتْنَۃِ الْقَبْرِ )) [3] [1] المعجم الأوسط للطبراني، رقم (۴۶۲۷). [2] المعجم الأوسط للطبراني، رقم (۵۰۷۷). [3] صحیح البخاري (۲۸۲۲، ۶۳۶۵، ۶۳۷۰، ۶۳۷۳).