کتاب: شرح حدیث ابن عباس - صفحہ 56
تَفْعَلُونَ﴾ [الإنفطار: ۱۰-۱۲] ’’اور بے شک تم پر نگران مقرر ہیں، ایسے معزز کاتب ہیں جو تمھارے ہر فعل کو جانتے ہیں۔‘‘ اور یہ حفاظت انسان کے بدن اور جسم کی بھی ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( یَتَعَاقَبُوْنَ فِیکُمْ مَلاَئِکَۃٌ بِاللَّیْلِ وَمَلاَئِکَۃٌ بِالنَّہَارِ، وَیَجْتَمِعُوْنَ فِيْ صَلاَۃِ الْفَجْرِ وَصَلاَۃِ الْعَصْرِ، ثُمَّ یَعْرُجُ الَّذِیْنَ بَاتُوْا فِیْکُمْ، فَیَسْأَلُہُمْ وَہْوَ أَعْلَمُ بِہِمْ کَیْفَ تَرَکْتُمْ عِبَادِيْ؟ فَیَقُوْلُوْنَ تَرَکْنَاہُمْ وَہُمْ یُصَلُّوْنَ، وَأَتَیْنَاہُمْ وَہُمْ یُصَلُّوْنَ )) [1] ’’رات اور دن کے فرشتے فجر اور عصر کی نماز میں اکٹھے ہوجاتے ہیں، پھر جو فرشتے رات کو تم میں رہے تھے وہ (آسمان) پر چڑھ جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان سے پوچھتا ہے، حالانکہ وہ ان کو خوب جانتا ہے: تم نے میرے بندوں کو کس حال میں چھوڑا؟ وہ عرض کرتے ہیں: ہم نے انھیں نماز پڑھتے ہوئے چھوڑا اور جب ہم ان کے پاس گئے تھے اس وقت بھی وہ نماز پڑھ رہے تھے۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے یہ فرشتے تو ہمہ وقت انسانوں کے ساتھ ہوتے ہیں اور وہ ان کے اچھے برے سب اعمال کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ یہ نہیں پوچھتے کہ میرے بندے آج دن یا آج رات کو کیا کرتے رہے ہیں بلکہ یہ پوچھتے ہیں کہ ’’کیف ترکتم عبادي؟‘‘ (جب تم آئے تھے تب وہ کیا کر رہے تھے؟) اس لیے کہ اللہ تعالیٰ اپنے [1] صحیح البخاري (۵۵۵) وغیرہ.