کتاب: شرح حدیث ابن عباس - صفحہ 54
طرف چل کر آئے گا الله اس کی طرف دوڑ کر آئے گا۔‘‘ اللہ تعالیٰ کی حفاظت و صیانت کی مجموعی طور پر دو نوعیتیں ہیں: پہلی نوعیت: پہلی نوعیت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے دنیوی مصالح کی حفاظت فرما دے، مثلاً: اس کے جسم و جان، اس کے اہل و عیال اور اس کے مال کی حفاظت فرمائے۔ چنانچہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح اور شام یہ دعا پڑھنا نہیں چھوڑتے تھے: (( اَللّٰہُمَّ إِنِّيْ أَسْأَلُکَ الْعَافِیَۃَ فِي الدُّنْیَا وَ الْآخِرَۃِ، اَللّٰہُمَّ إِنِّيْ أَسْأَلُکَ الْعَفْوَ وَ الْعَافِیَۃَ فِيْ دِیْنِيْ وَ دُنْیَايَ وَ أَہْلِيْ وَ مَالِيْ، اَللّٰہُمَّ اسْتُرْ عَوْرَاتِيْ وَ آمِنْ رَّوْعَاتِيْ وَ احْفَظْنِيْ مِنْ بَیْنِ یَدَيَّ وَ مِنْ خَلْفِيْ وَ عَنْ یَمِیْنِيْ وَ عَنْ شِمَالِيْ وَ مِنْ فَوْقِيْ، وَ أَعُوْذُ بِعَظَمَتِکَ أَنْ أُغْتَالَ مِنْ تَحْتِيْ )) [1] ’’اے اللہ! میں آپ سے دنیا و آخرت میں بخشش اور عافیت کا سوال کرتا ہوں۔ اے اللہ! میں آپ سے بخشش کا اور اپنے دین و دنیا اور اہل و مال میں عافیت کا سوال کرتا ہوں۔ اے اللہ! میرے عیوب کی پردہ پوشی فرما اور مجھے ڈر سے بے خوف کر دے۔ اے اللہ! میرے سامنے سے اور میرے پیچھے سے، میرے دائیں سے، میرے بائیں اور میرے اوپر سے میری حفاظت فرما اور میں تیری عظمت کی پناہ چاہتا ہوں کہ اچانک اپنے نیچے سے ہلاک کیا جاؤں۔‘‘ [1] أحمد (۲/ ۲۵) أبو داود (۵۰۷۴) نسائي وغیرہم.