کتاب: شرح حدیث ابن عباس - صفحہ 53
کی رعایت کرے گا، اس کے بارے میں اچھا یقین رکھے گا، اللہ تعالیٰ بھی اس کی حفاظت فرمائے گا اور اس سے اچھا معاملہ رکھے گا۔ بلکہ اللہ تعالیٰ تو اپنے بندے پر اس قدر مہربان ہے کہ ایک نیکی کا اجر کم سے کم دس گنا عطا فرماتے ہیں اور جس قدر اِخلاص اور طریقۂ نبوی کے مطابق عمل ہو گا اسی قدر ہی اسے پذیرائی بخشتے ہیں، ﴿وَاللّٰه يُضَاعِفُ لِمَنْ يَشَاءُ ﴾ دس سے سات سو گنا تک بلکہ جسے چاہتے ہیں اس سے بھی زیادہ اجر عطا فرماتے ہیں۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( کُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ یُضَاعَفُ؛ اَلْحَسَنَۃُ بِعَشْرِ أَمْثَالِھَا إِلٰی سَبْعِ مِائَۃِ ضِعْفٍ إِلٰی مَا شَائَ اللّٰہُ )) [1] ’’ابن آدم کے ہر عمل کے بدلے میں دس سے سات سو گنا اور اس سے اوپر جتنا اللہ تعالیٰ چاہے گا اضافہ فرمائے گا۔‘‘ حتیٰ کہ فرما دیا: ﴿إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ ﴾ [الزمر: ۱۰] ’’صبر کرنے والوں کو ان کا اجر کسی شمار کے بغیر دیا جائے گا۔‘‘ بلکہ ایک حدیث میں ہے: (( مَنْ تَقَرَّبَ إِلَی اللّٰہِ شِبْرًا تَقَرَّبَ اللّٰہُ إِلَیْہِ ذِرَاعًا، وَمَنْ تَقَرَّبَ إِلَیْہِ ذِرَاعًا تَقَرَّبَ إِلَیْہِ بَاعًا، وَمَنْ أَتَاہٗ یَمْشِيْ أَتَاہُ اللّٰہُ ھَرْوَلَۃً )) [2] ’’جو الله کے ایک بالشت قریب ہو گا الله ایک ہاتھ اس کے قریب ہو گا اور جو ایک ہاتھ قریب ہو گا الله دو ہاتھ اس کے قریب ہو گا، جو اس کی [1] صحیح مسلم (۱۱۵۱) أحمد (۹۷۱۴). [2] مسند أحمد (۳/۴۰).