کتاب: شرح حدیث ابن عباس - صفحہ 52
اللہ کا حکم ہے؟ تو انھوں نے فرمایا: ہاں۔ حضرت ہاجرہ علیہا السلام نے کہا پھر اللہ تعالیٰ ہمیں ضائع نہیں کرے گا (ہماری حفاظت فرمائے گا)۔ [1] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ پر اس توکل کا جو نتیجہ نکلا، پوری دنیا نے دیکھا اور ان شاء اللہ قیامت تک دیکھتی رہے گی۔ اس لیے جو شخص یہ چاہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ میرا محافظ اور معاون و مددگار ہو اُسے چاہیے کہ وہ اللہ کے لیے مخلص ہو جائے اور اسی پر بھروسہ کرے۔ جس قدر اُس کا اپنے اللہ سے تعلق ہو گا اس سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ اس کے ہم نوا و ہمدرد ہوں گے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( مَنْ کَانَ یُحِبُّ أَنْ یَعْلَمَ مَنْزِلَتَہٗ عِنْدَ اللّٰہِ فَلْیَنْظُرْ کَیْفَ مَنْزِلَۃُ اللّٰہِ عِنْدَہٗ، فَإِنَّ اللّٰہَ یُنْزِلُ الْعَبْدَ مِنْہُ حَیْثُ أَنْزَلَہُ مِنْ نَفْسِہٖ )) [2] ’’جو پسند کرتا ہے کہ وہ یہ معلوم کرے کہ اس کا اللہ کے ہاں کیا مقام ہے اسے دیکھنا چاہیے کہ خود اُس کے نزدیک اللہ تعالیٰ کا مقام و مرتبہ کیا ہے۔ بے شک اللہ تعالیٰ بندے کو اسی قدر اپنے قریب کرتے ہیں جس قدر وہ اللہ کو اپنے قریب کرتا ہے۔‘‘ اس روایت میں عمر بن عبداللہ مولیٰ غُفرۃ متکلم فیہ ہے، تاہم علامہ منذری نے اسے حسن قرار دیا ہے۔[3] حضرت انس رضی اللہ عنہ سے اسی مفہوم میں یہ حدیث قدسی بھی ہے: (( أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِيْ بِيْ )) [4] ’’میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق اس سے معاملہ کرتا ہوں۔‘‘ اس لیے انسان اللہ تعالیٰ کے حقوق کا جس قدر اِہتمام کرے گا اور حدود اللہ [1] صحیح البخاري (۳۳۶۴، ۳۳۶۵). [2] أبو یعلی (۱۸۶۰) حاکم (۱/ ۴۹۴) وغیرہما. [3] الترغیب (۲/ ۴۰۵). [4] مسند أحمد (۲/ ۲۵۱).