کتاب: شرح حدیث ابن عباس - صفحہ 50
دے گا یہاں تک کہ وہ اسے اس کے گھر میں بیٹھے ہوئے کو رُسوا کر دے گا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے صلہ رحمی کا حکم دیا ہے اور قطع رحمی کی ممانعت فرمائی ہے۔ اسی حوالے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ رب ذوالجلال نے فرمایا: (( مَنْ وَصَلَھَا وَصَلْتُہٗ وَمَنْ قَطَعَھَا قَطَعْتُہٗ )) [1] ’’جو اُسے ملائے گا میں اسے ملاؤں گا اور جو اُسے کاٹے گا میں اسے کاٹ دوں گا۔‘‘ اسی طرح فرمایا: (( مَنْ کَانَ فِيْ عَوْنِ أَخِیْہِ کَانَ اللّٰہُ فِيْ عَوْنِہٖ )) [2] ’’جو اپنے بھائی کی مدد کرے گا اللہ تعالیٰ اس کی مدد کرے گا۔‘‘ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث قدسی کے الفاظ مروی ہیں: (( یَا عَبْدِيْ! أَنْفِقْ أُنفِقْ عَلَیْکَ )) [3] ’’اے میرے بندے! (میری راہ میں) خرچ کرو، میں تم پر خرچ کروں گا۔‘‘ اسی اسلوب میں فرمایا گیا ہے: ﴿هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ ﴾ [الرحمٰن: ۶۰] ’’احسان کا بدلہ احسان کے سوا کیا ہے۔‘‘ برائی کا بدلہ بھی برا ہی ہو گا۔ جزا اور بدلہ جنسِ عمل سے ہونے کی ان کے علاوہ بھی بہت سی مثالیں قرآن مجید اور احادیث مبارکہ میں موجود ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کے دین کی حفاظت کا سب سے اوّلین تقاضہ یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ سے مخلص ہو، ہمیشہ اسی سے وابستہ رہے اور اسی پر توکل کرے تو اللہ تعالیٰ [1] صحیح البخاري (۵۹۸۹)، جامع ترمذي (۱۹۷۰). [2] صحیح مسلم (۲۶۹۹). [3] صحیح البخاري (۵۳۵۲).