کتاب: شرح حدیث ابن عباس - صفحہ 47
’’بے شک کان اور آنکھ اور دل، ان میں سے ہر ایک، اس کے متعلق سوال ہو گا۔‘‘ کہ ا نھیں تم نے کس مصرف میں لگایا اور یہ اعضاء بول کر بتلائیں گے کہ دنیا میں ان کا عمل کیا رہا ہے، جیسا کہ سورۂ حم السجدۃ (۱۹-۲۳) اور سورۂ یٰس (آیت: ۶۵) میں بیان ہوا ہے۔ ﴿اتَّقُوا اللّٰه حَقَّ تُقَاتِهِ ﴾ [آل عمران: ۱۰۲] کے بارے میں بھی سیدنا عبدالله بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس کے معنی یہ ہیں کہ الله کی اطاعت کی جائے، نافرمانی نہ کی جائے، اسے یاد رکھا جائے، بھُلایا نہ جائے، اس کا شکر ادا کیا جائے، ناشکری نہ کی جائے۔ [1] حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ اس قول کی سند صحیح ہے۔ یعنی حسب استطاعت ہر حال میں الله کا شاکر و ذاکر اور صابر رہنا چاہیے۔ یہی مقصود و مطلوب ’’استحیوا من اللّٰه حق الحیاء‘‘ سے ہے۔ [1] حاکم (۲/ ۳۲۳)، ابن أبي حاتم.