کتاب: شرح حدیث ابن عباس - صفحہ 46
(( أَنْ تَحْفَظَ الرَّأْسَ وَمَا وَعٰی وَتَحْفَظَ الْبَطْنَ وَمَا حَوٰی )) [1] ’’تم اپنے سر کی اور جسے وہ جمع کرتا ہے اس کی حفاظت کرو اور اپنے پیٹ اور جو وہ سمیٹتا اور جمع کرتا ہے اس کی حفاظت کرو۔‘‘ شارح ترمذی محدث مبارک پوری فرماتے ہیں کہ ’’جسے وہ جمع کرتا ہے‘‘ سے زبان، آنکھیں اور کان مراد ہیں کہ انھیں وہاں استعمال نہ کرے جہاں ان کو استعمال کرنا جائز نہیں۔ اور سر کی حفاظت یہ ہے کہ وہ نہ غیر اللہ کے سامنے جھکے اور نہ ان کی اطاعت کرے، نہ ہی متکبر بنے، نہ ریا میں مبتلا ہو، صرف اللہ تعالیٰ کے لیے مخلص ہو جائے۔ پیٹ کی حفاظت یہ ہے کہ اس میں حرام کا لقمہ نہ جائے۔ اور ’’پیٹ جو سمیٹتا ہے‘‘ سے اِنسان کی شرم گاہ، اس کے ہاتھ پاؤں اور دل مراد ہے جو پیٹ سے متصل ہیں اور ان کی حفاظت یہ ہے کہ یہ اعضاء اللہ کی نافرمانی میں مبتلا نہ ہوں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی میں لگے رہیں۔[2] اس روایت کا راوی صباح بن محمد ضعیف ہے امام عقیلی اور حافظ ذہبی نے فرمایا ہے کہ اسے مرفوع بیان کرنے میں صباح کا وہم ہے یہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول ہے۔ لیکن ’’طبراني کبیر‘‘ (۱۰/ ۱۸۸) اور ’’صغیر‘‘ (۱/ ۱۷۷) میں یہ ایک اور سند سے بھی مروی ہے لیکن اس کا راوی مجاعہ بن زبیر ضعیف ہے اور ابوعبیدہ اسے اپنے باپ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں اور ان کا اپنے باپ سے سماع نہیں ہے، اس لیے گو یہ روایت ضعیف ہے لیکن قرآن مجید میں انھی اعضاء کے بارے میں فرمایا گیا ہے: ﴿إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولَئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُولًا ﴾ [الإسراء: ۳۶] [1] ترمذي (۲۴۵۸) أحمد (۱/ ۳۸۷) حاکم (۱/ ۳۲۳) وغیرہ. [2] تحفۃ الأحوذي (۳/ ۳۰۵).