کتاب: شرح حدیث ابن عباس - صفحہ 45
ایک روایت میں (( من حفظ )) کے بھی الفاظ ہیں۔[1] حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( اِضْمَنُوْا لِيْ سِتًّا مِنْ أَنْفُسِکُمْ أَضْمَنْ لَکُمُ الْجَنَّۃَ؛ أُصْدُقُوْا إِذَا حَدَّثْتُمْ، وَأَوْفُوْا إِذَا وَعَدْتُّمْ، وَأَدُّوْا إِذَا أْوتُمِنْتُمْ، وَاحْفَظُوْا فُرُوْجَکُمْ، وَغَضُّوْا أَبْصَارَکُمْ، وَکُفُّوْا أَیْدِیَکُمْ )) [2] ’’مجھے چھ چیزوں کی ضمانت دو، میں تمھیں جنت کی ضمانت دیتا ہوں؛ جب بات کرو تو سچ کہو، جب وعدہ کرو تو پورا کرو، جب امین بنائے جاؤ تو امانت کو ادا کرو، اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرو، اپنی آنکھوں کو نیچا رکھو اور اپنے ہاتھوں کو (کسی کو تکلیف دینے سے) روکے رکھو۔‘‘ اس موضوع کی اور بھی آیات و احادیث ہیں شائقین اس ناکارہ کا کتابچہ ’’آفاتِ نظر اور اُن کا علاج‘‘ اور ’’فلاح کی راہیں‘‘ ملاحظہ فرمائیں۔ اسی طرح امانت اور عہد و میثاق کی حفاظت کے لیے بھی فلاح کی راہیں ملاحظہ فرمائیں۔ سر اور پیٹ کی حفاظت: حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( اِسْتَحْیُوْا مِنَ اللّٰہِ حَقَّ الْحَیَائِ )) ’’اللہ سے حیا کرو جیسا کہ حیا کا حق ہے۔‘‘ یہ وہی اسلوب ہے جو قرآن مجید میں ہے کہ ﴿اتَّقُوا اللّٰه حَقَّ تُقَاتِهِ ﴾ [آل عمران: ۱۰۲] (اللہ سے ڈرو جیسا کہ ڈرنے کا حق ہے)۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! الحمد للہ، ہم حیا کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: یوں نہیں بلکہ اللہ سے حیا جس طرح کہ حیا کا حق ہے یوں ہے: [1] حاکم (۴/ ۳۵۷) طبراني (۱/ ۲۹۰) أحمد (۴/ ۳۹۸). [2] ابن حبان و الحاکم۔ الصحیحۃ، رقم (۱۴۷۰).