کتاب: شرح حدیث ابن عباس - صفحہ 44
کو تنہائی میں بیٹھنے، عورت کو اکیلے سفر کرنے، خوش بُو لگا کر زیب و زینت اختیار کر کے گھر سے نکلنے اور نامحرموں سے لیپاپوتی سے بات کرنے سے بھی منع فرما دیا گیا تاکہ عورت کی عزت و عصمت محفوظ رہے۔ عباد الرحمان کی علامات بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: ﴿وَالْحَافِظِينَ فُرُوجَهُمْ وَالْحَافِظَاتِ وَالذَّاكِرِينَ اللّٰه كَثِيرًا وَالذَّاكِرَاتِ أَعَدَّ اللّٰه لَهُمْ مَغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِيمًا ﴾ [الأحزاب: ۳۵] ’’اور شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے مرد اور حفاظت کرنے والی عورتیں اور اللہ کو بہ کثرت یاد کرنے والے مرد اور بہ کثرت یاد کرنے والی عورتیں، ان سب کے لیے اللہ نے بخشش اور بہت بڑا اَجر تیار کر رکھا ہے۔‘‘ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (( یَا شَبَابَ قُرَیْشٍ! اِحْفَظُوْا فُرُوْجَکُمْ لَا تَزْنُوْا، أَلَا مَنْ حَفِظَ فَرْجَہُ فَلَہُ الْجَنَّۃُ )) [1] ’’اے قریشی نوجوانو! اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرو، زنا مت کرو، جو شرم گاہ کی حفاظت کرتا ہے اس کے لیے جنت ہے۔‘‘ حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (( مَنْ یَضْمَنْ لِيْ مَا بَیْنَ لِحْیَیْہِ وَمَا بَیْنَ رِجْلَیْہِ أَضْمَنْ لَہُ الْجَنَّۃَ )) [2] ’’جو مجھے اُس کی جو دو جبڑوں کے مابین (زبان) ہے اور جو دو ٹانگوں کے درمیان (شرم گاہ) ہے، کی ضمانت دیتا ہے میں اسے جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔‘‘ [1] حاکم (۴/ ۳۵۸) صحیح الترغیب (۲/ ۲۱۸). [2] صحیح البخاري، رقم: ۶۴۷۴).