کتاب: شرح حدیث ابن عباس - صفحہ 40
﴿وَأَوْفُوا بِعَهْدِ اللّٰه إِذَا عَاهَدْتُمْ وَلَا تَنْقُضُوا الْأَيْمَانَ بَعْدَ تَوْكِيدِهَا ﴾ [النحل: ۹۱] ’’اور اللہ کا عہد پورا کرو جب آپس میں عہد کرو اور قسموں کو ان کے پختہ کرنے کے بعد مت توڑو۔‘‘ اسی طرح یہ بھی فرمایا: ﴿وَلَا تَتَّخِذُوا أَيْمَانَكُمْ دَخَلًا بَيْنَكُمْ ﴾ [النحل: ۹۴] ’’اور اپنی قسموں کو اپنے درمیان فریب کا ذریعہ نہ بناؤ۔‘‘ جھوٹی قسمیں کھا کر مال و زر سمیٹنے والوں کو خبردار کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: ﴿إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللّٰه وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا أُولَئِكَ لَا خَلَاقَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ وَلَا يُكَلِّمُهُمُ اللّٰه وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾ [آل عمران: ۷۷] ’’بے شک جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے عوض تھوڑی قیمت لیتے ہیں، وہ لوگ ہیں کہ ان کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں اور اللہ قیامت کے دن نہ ان سے بات کرے گا اور نہ ان کی طرف دیکھے گا اور نہ انھیں پاک کرے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔‘‘ حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے کچھ مال تجارت کے لیے بازار میں رکھا پھر اس پر قسم کھا کر کہا میں نے اس مال کی اتنی قیمت ادا کی ہے، حالانکہ اس نے اتنی قیمت ادا نہیں کی تھی، قسم اٹھانے سے اس کا مقصد مسلمان کو اس مال کے خریدنے میں پھنسانا تھا۔ اس پر سورئہ آل عمران کی یہ مذکورہ آیت نازل ہوئی۔[1] [1] صحیح البخاری (۲۰۸۸).