کتاب: شرح حدیث ابن عباس - صفحہ 38
قسم کی اقسام: قسم کی تین قسمیں ہیں: (1) الیمین اللغو: جو نیت و ارادے کے بغیر عادت کے طور پر بات بات پر بے ساختہ قسم کھائی جاتی ہے۔ اسے ’’یمین لغو‘‘ کہتے ہیں۔ اہلِ عرب بھی عموماً ’’لا واللّٰہ‘‘ (نہیں، اللہ کی قسم!)، ’’بلیٰ واللّٰہ‘‘ (کیوں نہیں، اللہ کی قسم!) کہتے ہیں۔ اس قسم کا کوئی کفارہ و مواخذہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ ہی نے فرمایا ہے: ﴿لَا يُؤَاخِذُكُمُ اللّٰه بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ ﴾ [البقرۃ: ۲۲۵] ’’اللہ تمھیں تمھاری قسموں میں لغو پر نہیں پکڑتا۔‘‘ (2) الیمین المنعقدۃ: جو قصد و ارادے سے قسم اٹھائی جائے کہ میں یہ کروں گا یا یہ نہیں کروں گا۔ اگر وہ قسم پوری نہ ہو سکے تو ایسی قسم کا کفارہ ہے کہ تین کاموں میں سے کوئی ایک کام کرے: (۱)دس مسکینوں کو اوسط درجے کا کھانا کھلائے، (۲) یا دس مسکینوں کو کپڑے بنا کر دے، (۳) یا ایک غلام آزاد کرے۔ اگر ان تینوں میں سے کوئی کام نہ کر سکے تو تین دن روزے رکھے۔ جیسا کہ سورۃ المائدۃ (آیت: ۸۹) میں بیان ہوا ہے۔ کسی ناجائز کام کی تو قسم اُٹھانی ہی نہیں چاہیے اگر اُٹھا لی ہے تو ناجائز کا ارتکاب نہیں کرنا چاہیے۔ ایسی صورت میں بعض اہلِ علم نے کہا ہے کہ اس کا کوئی کفارہ نہیں مگر احوط یہ ہے کہ اس کا کفارہ دے دیا جائے۔ حضرت عبدالرحمان بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( إِذَا حَلَفْتَ عَلَی یَمِیْنٍ فَرَأَیْتَ غَیْرَھَا خَیْرًا مِنْھَا فَکَفِّرْ عَنْ یَمِیْنِکَ وَأْتِ الَّذِيْ ھُوَ خَیْرٌ )) [1] [1] صحیح البخاري، رقم: (۶۶۲۲).