کتاب: شرح حدیث ابن عباس - صفحہ 37
نماز سے پہلے طہارت اور پاکیزگی ہے جسے نصف ایمان قرار دیا گیا ہے: ((اَلطَّھُوْرُ شَطْرُ الْإِیْمَانِ )) [1] اسی کے بارے میں حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ مولیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( وَاعْلَمُوْا أَنَّ خَیْرَ أَعْمَالِکُمْ الصَّلَاۃُ، وَلَا یُحَافِظُ عَلَی الْوُضُوْئِ إِلَّا مُؤْمِنٌ )) [2] ’’خوب جان لو کہ تمھارا بہترین عمل نماز ہے اور وضو پر مداومت و محافظت مومن ہی کرتا ہے۔‘‘ وضو ٹوٹ جائے تو مومن پاک صاف رہنے کے لیے وضو کرتا ہے۔ پھر وضو کے ٹوٹنے کا علم اللہ سبحانہ و تعالیٰ کو ہے یا مومن کو ہے۔ اس لیے اس کا وضو کر لینا اس کے ایمان کی دلیل ہے۔ قسموں کی حفاظت: نماز کے ساتھ ساتھ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے قسموں کی حفاظت اور ان کی پاس داری کا بھی حکم دیا ہے، چنانچہ ارشاد فرمایا: ﴿وَاحْفَظُوا أَيْمَانَكُمْ ﴾ [المائدۃ: ۸۹] ’’اور اپنی قسموں کی حفاظت کرو۔‘‘ ’’أیمان‘‘ یمین کی جمع ہے جس کے معنی ہیں: قسم یا معاہدہ۔ ’’یمین‘‘ کے اصل معنی تو دایاں ہاتھ ہے۔ اہلِ عرب چونکہ قسم کھاتے ہوئے یا عہد و پیمان کرتے ہوئے اپنا دایاں ہاتھ دوسرے کے دائیں ہاتھ پر مارتے تھے، اس لیے استعارے کے طور پر لفظ ’’یمین‘‘ قسم کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔[3] [1] مسلم (۲۲۳). [2] ابن ماجہ (۲۷۷) حاکم (۱/ ۱۳۰) دارمي (۱/ ۱۳۳) أحمد (۵/ ۲۸۲) وغیرہم. [3] مفردات.