کتاب: شرح حدیث ابن عباس - صفحہ 34
﴿وَرَبُّكَ يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ وَيَخْتَارُ ﴾ [القصص: ۶۸] ’’اور تیرا رب پیدا کرتا ہے جو چاہتا ہے اور چُن لیتا (جسے چاہتا ہے)۔‘‘ فلاح و فوز سے ہمکنار ہونے والوں کے اوصاف ذکر کرتے ہوئے ایک وصف یہ بیان ہوا ہے: ﴿وَالَّذِينَ هُمْ عَلَى صَلَوَاتِهِمْ يُحَافِظُونَ﴾ [المؤمنون: ۹] ’’اور وہی جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں۔‘‘ سورۃ المعارج میں بھی کامیابیوں کو حاصل کرنے والوں کے بارے میں فرمایا ہے: ﴿وَالَّذِينَ هُمْ عَلَى صَلَاتِهِمْ يُحَافِظُونَ ﴾ [المعارج: ۳۴] ’’اور وہ جو اپنی نماز کی حفاظت کرتے ہیں۔‘‘ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نمازوں کی حفاظت کے معنی یہ ہیں کہ وہ نماز وقت پر پڑھتے ہیں۔[1] نماز کی حفاظت میں اس کے تمام ارکان و شروط کے مطابق باجماعت ادا کرنا بھی شامل ہے، چنانچہ حضرت حنظلہ بن ربیع الکاتب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( مَنْ حَافَظَ عَلَی الصَّلَوَاتِ رُکُوْعِھُنَّ وَسُجُوْدِھُنَّ وَ وَضُوْئِ ھُنَّ وَمَوَاقِیْتِھُنَّ وَعَلِمَ أَنَّھُنَّ حَقٌّ مِنْ عِنْدِ اللّٰہِ دَخَلَ الْجَنَّۃَ ))[2] ’’جس نے پانچ نمازوں کی، ان کے رکوع اور ان کے سجود، ان کے وضو اور ان کے اوقات کی حفاظت کی اور یہ فریضہ اللہ کی طرف سے سمجھ کر پورا کیا وہ جنت میں جائے گا۔‘‘ اسی مفہوم کی ایک روایت حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ سے بھی طبرانی میں مروی ہے۔[3] [1] ابن کثیر. [2] مسند أحمد (۴/ ۲۶۷). [3] الترغیب (۱/ ۲۴۱).