کتاب: شرح حدیث ابن عباس - صفحہ 33
(( مَنْ تَرَکَ صَلاَۃَ الْعَصْرِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُہٗ )) [1] ایک روایت میں (( مُتَعَمِّدًا )) کے الفاظ بھی ہیں کہ جس نے قصداً نماز عصر چھوڑ دی اس کا عمل برباد ہو گیا۔ وادی عُسفان میں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کفار کے مدمقابل تھے ظہر کی نماز پڑھی جا چکی تو کفار نے کہا تھا اب ان کی ایسی نماز کا وقت ہورہا ہے: ’’ھِيَ أَحَبُّ إِلَیْھِمْ مِنْ أَبْنَائِھِمْ وَأَنْفُسِھِمْ‘‘ ’’جو ان کے نزدیک ان کی اولادوں اور ان کی اپنی جانوں سے بھی محبوب ہے۔‘‘ اس وقت دفعتاً ہم دھاوا بول دیں گے۔ اسی اثنا میں جبریل علیہ السلام صلاۃ خوف کی آیات لے کر آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صلاۃ خوف پڑھائی۔[2] اس سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ کفار بھی سمجھتے تھے کہ صحابہ کرام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک عصر کی نماز کا کیا مرتبہ و مقام تھا۔ اسی نماز عصر کی حفاظت کا بہ طور خاص حکم فرمایا گیا ہے اور یہ غالباً اس لیے کہ کاروبار زندگی اور خرید و فروخت کا بازار اس دور میں غروب آفتاب سے پہلے سمیٹ لیا جاتا تھا اور لوگ غروب آفتاب کے وقت گھروں میں لوٹ جاتے تھے۔ کاروباری مصروفیت کے تناظر میں عصر کی نماز کے رہ جانے کا جو بہ ظاہر خطرہ تھا اسی کے سدِ باب کے لیے نماز عصر کی حفاظت کا بہ طور خاص حکم ہے کہ یہ کاروبار کی نظر نہ ہو جائے۔ یہ ایک ظاہری سبب ہو سکتا ہے، ورنہ حقیقت یہ ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہی اس تخصیص کی حقیقت و حکمت سے واقف ہیں۔ وہ جس نماز کو چاہیں دوسری نمازوں پر فضیلت عطا فرمائیں: [1] صحیح البخاري (۵۵۳، ۵۵۴). [2] مسند أحمد بحوالہ ابن کثیر (۱/ ۷۲۹)0