کتاب: شرح حدیث ابن عباس - صفحہ 29
کی دیگر روایات بھی مروی ہیں غالباً انھی کی بنا پر علامہ نووی، حافظ سمعانی نے اسے حسن قرار دیا ہے۔ بلکہ علامہ البوصیری نے ’’الاتحاف المہرہ‘‘ (رقم: ۱۱۲۵، ۱۱۲۶) میں اس کی سند کو صحیح اور حافظ ابن حجر نے الامالی میں اور حافظ عراقی نے اسے حسن کہا ہے، بلکہ ابن الصلاح نے صحیح کہا ہے۔[1] امام مکحول رحمہ اللہ کے حضرت ابوثعلبہ رضی اللہ عنہ سے سماع کا گو امام ابونعیم وغیرہ نے انکار کیا مگر پیش نظر رہے کہ امام مکحول رحمہ اللہ کی ابوثعلبہ رضی اللہ عنہ سے روایت تو صحیح مسلم (۱۹۳۱) میں ہے اور علامہ ابن علان نے الفتوحات میں ذکر کیا ہے کہ امام ابن معین رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ مکحول کا ابوثعلبہ رضی اللہ عنہ سے سماع ثابت ہے۔ واللّٰہ أعلم۔ علامہ البانی رحمہ اللہ نے ’’غایۃ المرام‘‘ (رقم: ۴) میں گو اسے ضعیف قرار دیا ہے، مگر ان کا یہ قول محل نظر ہے۔ امام مکحول رحمہ اللہ کا سیدنا ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے سماع درست تسلیم نہ بھی کیا جائے تو سیدنا ابو الدرداء کی حدیث اس کا شاہد ’’مستدرک حاکم‘‘ (۲/ ۴۰۶)، ’’البزار‘‘ (۱۰/ ۲۶۔ ۲۷) اور ’’بیھقي‘‘ (۱۰/ ۱۲) میں ہے، جسے امام حاکم نے ’’صحیح الاسناد‘‘ اور امام بزار نے ’’إسنادہ صالح‘‘ کہا ہے۔ علامہ السخاوی رحمہ اللہ نے کہا ہے: ’’رجالہ ثقات‘‘۔[2] علامہ ہیثمی نے بھی بزار اور طبرانی کبیر کی سند کے بارے میں ’’رجالہ ثقات و إسنادہ ضعیف‘‘ کہا ہے۔[3] علامہ البانی سے طبرانی صغیر اور سنن دارقطنی سے یہی روایت نقل کر کے فرمایا ہے کہ طبرانی کی سند میں اصرم بن حوشب اور دارقطنی کی سند میں نہشل الخراسانی دونوں کذاب ہیں۔ غالباً مستدرک حاکم اور مسند بزار کی سند ان کے پیش نظر نہیں، ورنہ وہ اسے ضعیف قرار نہ دیتے۔ شیخ سلیم الدارانی نے بھی ’’مجمع الزوائد‘‘ کے [1] الفتوحات الربانیۃ (۷/ ۳۶۵). [2] الفتوحات الربانیۃ. [3] مجمع (۷/ ۵۵، ۱/ ۱۷۱).