کتاب: شرح حدیث ابن عباس - صفحہ 26
(( إِنِّيْ أُعَلِّمُکَ کَلِمَاتٍ )) ’’میں تمھیں چند کلمات سکھاتا ہوں‘‘ مسند امام احمد وغیرہ کی ایک روایت میں ہے: (( أَلَا أُعَلِّمُکَ کَلِمَاتٍ یَنْفَعُکَ اللّٰہُ بِھِنَّ )) ’’کیا میں تمھیں چند کلمات نہ سکھلاؤں جن سے اللہ تمھیں نفع دے۔‘‘ ’’چند کلمات‘‘ تو اس لیے کہ انھیں یاد رکھنے میں آسانی رہے۔ وہ کلمات خواہ کتنے ہی اہم کیوں نہ ہوں مگر ان سے فائدہ تبھی ہو گا جب اللہ تعالیٰ چاہے کہ تمھیں ان سے فائدہ پہنچے۔ کوئی بھی چیز اپنی جبلی و فطری طور پر کتنی ہی موثر کیوں نہ ہو، مگر اس سے کسی کو فائدہ تبھی پہنچے گا جب اللہ تعالیٰ اسے اس کے لیے مفید بنا دے گا۔ ایک دوائی ایک مرض کے لیے بعض کو سود مند ثابت ہوتی ہے بعض کو نہیں ہوتی۔ آگ میں جلانے کا اثر اللہ تعالیٰ نے رکھا اور وہ ہر چیز کو جلا کر راکھ کر دیتی ہے۔ مگر اسی آگ کو اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت ابومسلم الخولانی کے لیے گلزار بنا دیا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جلانے کے لیے پوری حکومت آگ کا الاؤ تیار کرتی ہے۔ اسی طرح حضرت ابومسلم الخولانی کو اسود عنسی کذاب نے جلانے کا حکم دیا۔ اسود نے پوچھا: کیا تم گواہی دیتے ہو کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں؟ انھوں نے فرمایا: ہاں گواہی دیتا ہوں۔ پھر اس نے کہا: کیا تم گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ تو انھوں نے فرمایا: میں تمھاری بات نہیں سن رہا۔ اس نے دوبارہ یہی بات دہرائی تو انھوں نے فرمایا: میں نہیں سنتا۔ اس نے بہت بڑی آگ جلانے کا حکم دیا پھر اس میں حضرت ابومسلم کو پھینک دیا تو آگ نے ان کو کوئی نقصان نہ پہنچایا۔[1] [1] البدایۃ (۶/ ۲۶۷).