کتاب: شرح حدیث ابن عباس - صفحہ 24
ابن عباس رضی اللہ عنہما کے علاوہ ان کے دو بھائیوں فضل بن عباس اور عبیداللہ بن عباس اور ابوبکر صدیق، عثمان غنی، علی المرتضیٰ، حسنین کریمین، معاذ اور اسامہ بن زید اور دیگر بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بھی حاصل ہے۔ حافظ یحییٰ بن عبدالوہاب بن محمد بن اسحاق ابن مندہ (وفات: ۵۵۱ھ) نے اس پر ایک مستقل رسالہ لکھا ہے کہ یہ شرف کن کن صحابہ کرام کو حاصل تھا۔ اس رسالے کا نام ’’معرفۃ أسامی ارداف النبي صلي اللّٰه عليه وسلم ‘‘ ہے جو عرصہ ہوا بیروت میں زیور طبع سے آراستہ ہوا ہے۔ ’’سبل الہدیٰ‘‘ ( ۷/ ۳۷۶، ۳۷۷) میں بھی علامہ شامی نے ان کے اسمائے مبارکہ ذکر کیے ہیں جن کی تعداد ۵۰ ہے۔ صحابہ کرام کے علاوہ معراج کی رات حضرت جبریل علیہ السلام بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ براق پر سوار تھے، جیسا کہ جامع ترمذی (۳۱۴۷) وغیرہ میں بسند حسن مروی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سواری پر صحابہ کرام کا بیٹھنا اس بات کی دلیل ہے کہ نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قصر شان سمجھا اور نہ ہی صحابہ کرام نے اس میں کسی قسم کی گستاخی کا پہلو محسوس کیا، جیسا کہ آج کل عموماً سمجھا جاتا ہے۔  ’’اے غلام (بچے)!‘‘: ایک روایت میں ’’یا غلیم‘‘ بھی ہے کہ اے بچونگڑے! ولادت سے لے کر سن بلوغت تک کے بچے کو ’’غلام‘‘ کہا جاتا ہے۔ حضرت ابراہیم کو ’’غلام‘‘ کی بشارت دی گئی تھی۔[1] اسی طرح حضرت زکریا کو بھی یحییٰ نامی ’’غلام‘‘ کی بشارت دی گئی اور حضرت یوسف علیہ السلام کو کنویں میں پڑا ہوا قافلے والے نے دیکھا تو پکار اُٹھا: ﴿هَذَا غُلَامٌ ﴾ لغت عرب ایک ایسی وسیع زبان ہے جس کا مقابلہ کوئی زبان نہیں کر سکی، دیگر الفاظ کو چھوڑیے یہی بچے کے بارے میں دیکھیے کہ رحم مادر میں بچہ ہو تو اسے ’’جنین‘‘ [1] الحجر [آیت: ۵۳] الصافات [آیت: ۱۰۱].