کتاب: شرح حدیث ابن عباس - صفحہ 23
حضرت عمر رضی اللہ عنہ ان کی علمی برتری کی بنا پر شیوخ بدر کی مجلس میں انھیں اپنے قریب جگہ دیتے تو وہ اس سے کبیدہ خاطر ہوتے کہ ہمارے بیٹے بھی تو ہیں، انھیں کیوں نہیں بلاتے۔ ایک روایت میں ہے کہ یہ اعتراض کرنے والے حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک روز شیوخِ بدر کی موجودگی میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کو بلایا اور شیوخِ بدر سے پوچھا کہ سورۃ النصر کے بارے میں تمھاری کیا رائے ہے؟ چنانچہ بعض حضرات تو خاموش رہے اور بعض نے فرمایا کہ اس میں فتح و نصرت کی صورت میں اللہ کی حمد بیان کرنے اور استغفار کرنے کا حکم ہے۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے فرمایا: تمھاری بھی یہی رائے ہے؟ تو انھوں نے فرمایا: نہیں، بلکہ اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا اشارہ ہے اور آپ کو بتلایا گیا ہے کہ آپ کی اجل قریب ہے، اس لیے اپنے رب کی حمد کہیں اور بخشش طلب کریں۔ حضرت عمر نے ان کی تائید کی۔[1] صحیح بخاری کی یہی روایت ترمذی، مسند احمد، حاکم، طبرانی وغیرہ میں بھی ہے۔ جس سے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے علمی مقام و مرتبہ کو سمجھا جا سکتا ہے۔ یہ چند باتیں راوی حدیث ہونے کے ناتے ہم نے عرض کی ہیں، ورنہ ان کی علمی خدمات کا دائرہ اور ان کے فضل و کمال کی داستانیں نہایت وسیع ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سواری پر بیٹھنے کی سعادت: ٭ ’’حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں ایک روز سواری پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے بیٹھا‘‘: سواری پر اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ بیٹھنے کی سعادت [1] صحیح البخاري (۳۶۲۷، ۴۲۹۴، ۴۴۳۰، ۴۹۶۹، ۴۹۷۰).