کتاب: شرح حدیث ابن عباس - صفحہ 21
مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث روایت کرتے ہیں میں نے چاہا کہ حدیث کو آپ سے سنوں۔ تو وہ فرماتے آپ کسی کو بھیج دیتے، میں خود حاضر ہو جاتا۔ میں کہتا: نہیں میں آپ کے پاس حاضر ہونے کا زیادہ مستحق ہوں کہ آپ سے سماع حدیث کا سوال کروں۔ وہ انصاری صحابی زندہ رہا اس نے مجھے دیکھا لوگ میرے پاس علم حاصل کرنے کے لیے جمع ہوتے ہیں تو وہ کہنے لگا: یہ نوجوان مجھ سے زیادہ عقل مند ہے۔[1] بلکہ فرماتے ہیں: میں ایک ایک بات کے بارے میں تیس تیس صحابہ کرام سے پوچھا کرتا تھا۔[2] حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام تھے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما ان کے پاس جاتے اور دریافت کرتے کہ فلاں روز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا کیا عمل کیا ہے؟ وہ جو تفصیل بتلاتے، ابن عباس رضی اللہ عنہما کا کاتب اسے لکھ لیتا۔[3] بلکہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بہت سی احادیث اور صحابہ کرام کے فتاویٰ کا عظیم مجموعہ تھا، حتیٰ کہ موسیٰ بن عقبہ نے ان کے غلام کُریب سے نقل کیا ہے کہ انھوں نے ایک اونٹ کے بار کے برابر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی کتابیں ہمیں دیں۔[4] حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ گھوڑے پر سوار ہونے لگے تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے گھوڑے کی رکاب پکڑ لی۔ حضرت زید رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عم زاد! یوں نہ کریں تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ہمیں اپنے علماء سے اسی طرح حسن سلوک کا حکم دیا گیا ہے۔ حضرت زید رضی اللہ عنہ نے ان کے ہاتھ کا بوسہ لیتے [1] المعرفۃ للفسوي (۱/ ۵۴۲) حاکم (۳/ ۵۳۸) طبراني؛ مجمع الزوائد (۹/ ۲۷۷) دارمي (۱/ ۱۱۴، ۱۱۵) السیر (۲/ ۳۴۳). [2] السیر (۳/ ۳۴۴). [3] الإصابۃ للحافظ. [4] تاریخ ابن أبي خیثمۃ (ص: ۳۵۳) ابن سعد (۵/ ۲۹۳).