کتاب: شرح حدیث ابن عباس - صفحہ 20
یہی بات حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بھی فرمائی ہے۔[1] صحیح بخاری میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا بیان منقول ہے کہ میں نے اور میرے ایک انصاری پڑوسی نے باری مقرر کر رکھی تھی ایک روز وہ اور دوسرے روز میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتا اور اس روز وحیِ الٰہی اور دیگر اُمور کی جو باتیں ہوتی تھیں میں اپنے انصاری بھائی کو بتلا دیتا اور وہ اپنے دن کی باری میں جو باتیں ہوتیں مجھے آگاہ کر دیتا تھا۔[2] اس حوالے سے صحابہ کرام کی کاوشوں کا دائرہ وسیع الذیل ہے مگر یہ ہمارا موضوع نہیں۔ تاہم اسی بارے میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا اپنا بیان ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوا تو میں نے ایک انصاری صحابی سے کہا: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی کثیر تعداد موجود ہے آئیں ہم ان سے علم حاصل کریں، تو انھوں نے کہا: اے ابن عباس رضی اللہ عنہما ! تم پر تعجب ہے کہ کیا تم سمجھتے ہو کہ لوگ تمھارے علم کی وجہ سے تمھارے محتاج ہوں گے حالانکہ لوگوں میں صحابہ کرام میں سے بہت سے موجود ہیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں نے یہ بات چھوڑی اور میں نے صحابہ کرام سے حدیث کا علم حاصل کرنے پر کمر ہمت باندھ لی۔ طلب حدیث کے لیے میں کسی ایسے شخص کے پاس جاتا جن کے متعلق مجھے خبر ملتی کہ انھوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے میں ان کے پاس جاتا تو انھیں دوپہر میں آرام کرتے پاتا۔ میں اپنی چادر کو تکیہ بنا کر ان کے دروازے پر لیٹ جاتا ہوائیں دھول اُڑا اُڑا کر میرا چہرہ خاک آلود کرتیں۔ تاآنکہ وہ صاحب گھر سے باہر تشریف لاتے۔ جب وہ مجھے دیکھتے تو فرماتے اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عم زاد! آپ کیسے تشریف لائے ہیں؟ میں عرض کرتا [1] مستدرک (۱/ ۹۵). [2] صحیح البخاري (۸۹).