کتاب: شرح حدیث ابن عباس - صفحہ 17
’’میں اور میری والدہ بے بسوں میں سے تھے۔‘‘ جنھیں اللہ تعالیٰ نے معذور قرار دیا ہے اور وہ ہجرت نہیں کر سکے تھے۔ جن کے عذر کو اللہ تعالیٰ نے سورۃ النساء (آیت: ۷۵) میں بیان فرمایا ہے۔ مدینہ طیبہ میں آنے کے بعد تقریباً تیس ماہ انھیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں رہنے کا شرف حاصل ہوا۔[1] آپ کا جب انتقال ہوا تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما تیرہ برس کے تھے۔ نہایت خوب صورت اور وجیہ چہرہ تھا۔ ان کے شاگرد عطاء بن ابی رباح فرماتے ہیں: ’’میں جب چودھویں رات کو چاند دیکھتا ہوں تو ابن عباس رضی اللہ عنہما کا چہرہ یاد آ جاتا ہے۔‘‘ لمبا قد اور بھرواں جسم تھا، خوش بُو اتنی استعمال کرتے کہ جب وہ گلی بازار سے گزرتے تو گھروں میں بیٹھی عورتیں کہتیں: کیا کوئی کستوری لے کر گیا ہے یا ابن عباس رضی اللہ عنہما گزرے ہیں؟ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا اُن کی خالہ تھیں، ایک رات وہ ان کے گھر رہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بیت الخلا میں قضائے حاجت کے لیے گئے تو انھوں نے دروازے پر پانی کا برتن رکھ دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کس نے رکھا ہے؟ بتلایا گیا کہ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے رکھا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( اَللّٰھُمَّ عَلِّمْہُ الْکِتَابَ وَفَقِّہْہٗ فِيْ الدِّیْنِ )) [2] ’’اے اللہ! اسے قرآن مجید کی تاویل و تفسیر سکھا اور دین میں فقہ و بصیرت عطا فرما۔ ‘‘ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس دعا کی برکت تھی کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے: [1] السیر (۳/ ۳۳۲). [2] صحیح البخاري (۷۵، ۱۴۲) مسند أحمد (۱/۲۶۶، ۳۱۴، ۳۲۸، ۳۳۵،) الحاکم (۳/ ۵۳۴) وغیرہ.