کتاب: شرح حدیث ابن عباس - صفحہ 169
﴿حَتَّى إِذَا اسْتَيْأَسَ الرُّسُلُ وَظَنُّوا أَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوا جَاءَهُمْ نَصْرُنَا ﴾ [یوسف: ۱۱۰] ’’یہاں تک کہ جب رسول بالکل نااُمید ہو گئے اور انھوں نے گمان کیا کہ ان سے یقینا جھوٹ کہا گیا تھا تو ان کے پاس ہماری مدد آ گئی۔‘‘ حضرت عبداللہ بن مسعود اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم فرماتے ہیں کہ کفار کو دعوت دینے کے باوجود انبیائے کرام جب ان کے ایمان لانے سے مایوس ہو گئے، ادھر کفار نے گمان کیا کہ ایمان نہ لانے پر جو عذاب کا کہا گیا تھا عذاب تو آیا نہیں، عذاب کی دھمکی جھوٹی تھی، اسی اثنا میں ہماری مدد آئی اور مجرموں کو عذاب میں دھر لیا گیا۔ قرآن مجید میں انبیائے کرام کے واقعات اسی کا مصداق ہیں، چنانچہ حضرت نوح علیہ السلام نے ساڑھے نو سو سال تک دعوتِ توحید دی، چند گنتی کے افراد ہی ساتھ ملے، اللہ تعالیٰ نے فرما دیا کہ اب ان میں سے کوئی بھی ایمان نہیں لائے گا۔[1] تب انھوں نے عرض کی: ﴿أَنِّي مَغْلُوبٌ فَانْتَصِرْ ﴾ [القمر: ۱۰] ’’میں مغلوب ہوں سو تُو بدلہ لے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے پانی کا مُنھ کھول دیا تو سب کفار پانی کی نذر ہو گئے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے خلاف سارا ملک امڈ آیا، انھیں آگ میں جلانے پر تل گیا اور اٹھا کر آگ میں پھینک دیا مگر اللہ تعالیٰ نے مدد فرمائی آگ کو ان کے لیے گلزار بنا دیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کا فرعون اور اس کے سب ہم نواؤں نے تعاقب کیا۔ دریا کے کنارے پر آئے انھوں نے فرعونیوں کو آتا دیکھا تو گھبرا کر بول اُٹھے: ﴿إِنَّا لَمُدْرَكُونَ ﴾ [الشعراء: ۶۱] ’’ہم پکڑے گئے۔‘‘ [1] سورۃ ہود [آیت: ۳۶].