کتاب: شرح حدیث ابن عباس - صفحہ 167
ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کا بادشاہ کی بیوی کی بات کو تسلیم نہ کرنے پر صبر اُس صبر سے زیادہ ہے جو انھوں نے بھائیوں کی ایذا رسانی پر کیا تھا۔ اسی طرح حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہما السلام کا اللہ کے حکمِ ذبح کی تعمیل پر صبر زیادہ کامل و مکمل ہے حضرت یعقوب علیہ السلام کے صبر کی نسبت جو انھوں نے حضرت یوسف علیہ السلام کے گم ہوجانے پر کیا تھا۔ اسی طرح حضرت نوح، حضرت ابراہیم اور حضرت موسیٰ و عیسیٰ علیہم السلام کا کفار کی اِیذا رسانیوں پر صبر زیادہ کامل و مکمل ہے حضرت ایوب علیہ السلام کے صبر پر جو انھوں نے بیماری میں کیا تھا۔[1] احکام کی پابندی صبر کے بغیر ممکن نہیں۔ دل نہیں چاہتا کہ نرم و گرم بستر چھوڑ کر مسجد میں جایا جائے، احباب کی مجلس چھوڑ کر لبیک کہتے ہوئے دربارِ الٰہی میں حاضر ہوا جائے، نفس کے لیے رقص و سرود کی مجلس چھوڑنا بھی گوارا نہیں ہوتا، لیکن اللہ تعالیٰ کے حکم پر یہ اپنے نفس کی خواہش کو خیرباد کہہ دیتا ہے تو یہی احکامِ الٰہی پر صبر ہے جس سے اللہ تعالیٰ کی توفیق حاصل ہوتی ہے، راہِ ہدایت پر چلنا اس کے لیے آسان ہو جاتا ہے اور اللہ کی نصرت شاملِ حال ہوتی ہے۔ جنت اس کا مقدر بن جاتی ہے جہاں استقبال کے لیے فرشتے کھڑے کہہ رہے ہوں گے: ﴿سَلَامٌ عَلَيْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِ ﴾ [الرعد: ۲۴] ’’سلام ہو تم پر اس کے بدلے میں جو تم نے صبر کیا، سو اچھا ہے اس گھر کا انجام۔‘‘ اللّٰہم اجعلنا منہم! [1] مدارج السالکین (۲/ ۱۷۶، ۱۷۷).