کتاب: شرح حدیث ابن عباس - صفحہ 165
’’اس سے نفس اور خواہش سے جہاد مراد ہے۔‘‘ جہادِ نفس من وجہ جہادِ اعداء سے بڑا ہے کیوں کہ دشمنوں سے جہاد پر تو طبائع آمادہ ہوتے ہیں، مگر نفس اور خواہش تو انسان کے ہاں محبوب ہوتی ہے اور محبوب چیز ہی کی وہ دعوت دیتی ہے اس لیے اس کے خلاف جہاد کرنا نہایت مشکل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿ وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا وَإِنَّ اللّٰه لَمَعَ الْمُحْسِنِينَ ﴾ [العنکبوت: ۶۹] ’’اور وہ لوگ جنھوں نے ہماری راہ میں جہاد کیا ہم ضرور انھیں اپنے راستے دکھا دیں گے اور بلاشبہ اللہ نیکی کرنے والوں کے ساتھ ہے۔‘‘ اسی سورۃ العنکبوت کی ابتدا میں بھی فرمایا: ﴿ وَمَنْ جَاهَدَ فَإِنَّمَا يُجَاهِدُ لِنَفْسِهِ ﴾ [العنکبوت: ۶] ’’اور جو جہاد کرتا ہے تو وہ اپنے ہی لیے جہاد کرتا ہے۔‘‘ امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ آدمی جہاد کرتا ہے، جب کہ وہ زندگی میں ایک بار بھی تلوار نہیں چلاتا۔[1] ’’جاہد‘‘ (باب مفاعلہ) میں مقابلے اور مبالغے کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ احکام کی پابندی میں مومن بڑی جد و جہد کرتا ہے سب سے پہلے تو اسے اپنے نفس کے خلاف جہاد کرنا پڑتا ہے جو ہر لحظہ اسے اپنی خواہشات کا غلام بنانا چاہتا ہے، شیطان سے بھی اس کا سخت مقابلہ رہتا ہے جس نے اسے گمراہ کرنے کی قسم کھا رکھی ہے، اسے اپنے دوست و احباب اور اپنے ماحول سے بھی مقابلہ رہتا ہے جو اسے [1] ابن کثیر (۳/ ۵۳۷).