کتاب: شرح حدیث ابن عباس - صفحہ 163
بلکہ جامع ترمذی (حدیث: ۱۶۲۱) میں بھی ہے: (( اَلْمُجَاھِدُ مَنْ جَاھَدَ نَفْسَہَ )) ’’مجاہد وہ ہے جو اپنے نفس سے جہاد کرتا ہے۔‘‘ امام ترمذی نے فرمایا ہے: حضرت فضالہ رضی اللہ عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے۔ اسی مفہوم میں یہ حدیث بھی ہے جسے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: (( لَیْسَ الشَّدِیْدُ بِالصُّرْعَۃِ إِنَّمَا الشَّدِیْدُ الَّذِيْ یَمْلِکُ نَفْسَہٗ عِنْدَ الْغَضَبِ )) [1] ’’پہلوان وہ نہیں جو لوگوں پرغالب آ جائے، پہلوان وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے نفس پر غالب آئے۔‘‘ اسی طرح شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( اَلْکَیِّسُ مَنْ دَانَ نَفْسَہٗ وَعَمِلَ لِمَا بَعْدَ الْمَوْتِ، وَالْعَاجِزُ مَنِ اتَّبَعَ نَفْسَہٗ ھَوَاھَا وَتَمَنَّی عَلَی اللّٰہِ )) [2] ’’عقل مند وہ ہے جو اپنے نفس کا محاسبہ کرتا ہے اور موت کے بعد (آئندہ) کے لیے عمل کرتا ہے اور عاجز وہ ہے جو اپنے نفس کی خواہشات کی پیروی کرتا ہے اور اللہ پر اُمید رکھتا ہے۔‘‘ امام ترمذی رحمہ اللہ نے گو اس حدیث کو حسن کہا ہے، مگر اس کا راوی ابوبکر بن عبداللہ بن ابی مریم ضعیف ہے۔[3] تمام نافرمانیوں کی جڑ یہی خواہش پرستی ہے، جیسا کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا ہے: [1] صحیح البخاري (۶۱۱۴) صحیح مسلم (۲۶۰۹). [2] سنن الترمذي (۲۴۵۹) سنن ابن ماجہ (۴۲۶۰) وغیرہ. [3] تقریب.