کتاب: شرح حدیث ابن عباس - صفحہ 16
شرح لکھی ہے۔ یہ رسالہ ۱۴۰۶ھ (مطابق ۱۹۸۶ء) میں فضیلۃ الشیخ الاخ محمد بن ناصر العجمی کی تحقیق و تعلیق سے مکتبہ دار الاقصیٰ (کویت) سے شایع ہوا ہے۔ حافظ ابن عبدالہادی نے ’’المبرد في الذیل علی طبقات الحنابلۃ‘‘ (ص: ۵۰) میں اور ابن حمید حنبلی نے ’’السحب الوابلۃ علی ضرائح الحنابلۃ‘‘ میں اس رسالے کا ذکر کیا ہے۔ اور علامہ صنعانی نے ’’سبل السلام‘‘ (۴/ ۱۷۵) میں فرمایا ہے: ’’اس عظیم الشان حدیث کی شرح بعض علمائے حنابلہ نے مستقل رسالے میں کی ہے۔ ‘‘ اس سے بھی ان کی مراد یہی حافظ ابن رجب کا رسالہ ہے۔ اس ناکارہ نے اسی رسالے سے اور ’’جامع العلوم و الحکم‘‘ سے بھرپور استفادہ کرتے ہوئے اس عظیم المرتبت حدیث کی توضیح و تشریح کی کوشش کی ہے۔ و ما توفیقي إلا باللّٰہ العلي العظیم۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما : اس حدیث کے راوی سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ہیں جو حَبرالأمۃ، فقیہ العصر، امام التفسیر اور البحر کے القاب سے ملقب ہیں، ان کی کنیت ابو العباس ہے۔ سید الانبیا حضرت محمد مصطفی احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے فرزند ارجمند ہیں۔ ہجرت سے تین سال قبل شعب بنی ہاشم میں، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہم نواؤں کے ساتھ رہایش پزیر تھے، پیدا ہوئے۔ فتحِ مکہ کے سال اپنے والد کے ہمراہ مدینہ طیبہ تشریف لے گئے۔ مدینہ طیبہ جانے سے پہلے وہ حلقہ بہ گوش اسلام ہو چکے تھے۔ خود ان کا اپنا بیان ہے: ’’کُنْتُ أَنَا وَأُمِّيْ مِنَ الْمُسْتَضْعَفِیْنَ‘‘[1] [1] صحیح البخاري (۴۵۸۷، ۴۵۸۸).