کتاب: شرح حدیث ابن عباس - صفحہ 156
کی: جی ہاں دکھائیں، فرمایا: یہ جو سیاہ رنگ کی عورت ہے۔[1] انصار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے بھی آپ نے فرمایا تھا: (( سَتَلْقَوْنَ بَعْدِيْ أَثَرَۃً فَاصْبِرُوْا حَتَّی تَلْقَوْنِيْ عَلَی الْحَوْضِ )) [2] ’’عنقریب تم میرے بعد حق تلفی دیکھو گے اس پر صبر کرنا یہاں تک کہ تم مجھے حوضِ کوثر پر ملو۔‘‘ ان احادیث سے بھی عیاں ہوتا ہے کہ صبر کا پھل میٹھا ہے اور اللہ اس کا بے حساب اجر عطا فرمائیں گے۔ میمون بن مہران فرماتے ہیں: جس نے جو پایا صبر سے پایا۔ ابراہیم تیمی نے فرمایا: جسے اللہ تعالیٰ تکالیف اور مصائب پر صبر کی توفیق عطا فرماتے ہیں، اسے گویا ایمان کے بعد سب سے افضل نعمتوں میں سے ایک نعمت عطا فرماتے ہیں۔ ان کا یہ فرمان حسبِ ذیل آیت کا مصداق ہے: ﴿لَيْسَ الْبِرَّ أَنْ تُوَلُّوا وُجُوهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلَكِنَّ الْبِرَّ مَنْ آمَنَ بِاللّٰه وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالْكِتَابِ وَالنَّبِيِّينَ وَآتَى الْمَالَ عَلَى حُبِّهِ ذَوِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَالسَّائِلِينَ وَفِي الرِّقَابِ وَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَآتَى الزَّكَاةَ وَالْمُوفُونَ بِعَهْدِهِمْ إِذَا عَاهَدُوا وَالصَّابِرِينَ فِي الْبَأْسَاءِ وَالضَّرَّاءِ وَحِينَ الْبَأْسِ أُولَئِكَ الَّذِينَ صَدَقُوا وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُتَّقُونَ ﴾ [البقرۃ: ۱۷۷] ’’نیکی یہ نہیں کہ تم اپنے منہ مشرق اور مغرب کی طرف پھیرو اور لیکن اصل نیکی اس کی ہے جو اللہ اور یوم آخرت اور فرشتوں اور کتابوں اور نبیوں پر اِیمان لائے [1] بخاری و مسلم. [2] صحیح البخاري (۳۷۹۲) وغیرہ.