کتاب: شرح حدیث ابن عباس - صفحہ 155
’’صبر کا اِیمان سے وہ تعلق ہے جو جسم کے ساتھ سر کا ہے اور جو صابر نہیں اس کا ایمان نہیں۔‘‘ اگر سر دھڑ سے جدا کر دیا جائے تو انسان زندہ نہیں رہ سکتا ہے۔ اسی طرح اگر صبر کا دامن چھوڑ دیا جائے تو انسان کا ایمان خطرے میں پڑ جاتا ہے۔ بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ ایمان کے دو حصے ہیں: ایک صبر اور دوسرا شکر۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( عَجَبًا لِأَمْرِ الْمُؤْمِنِ، إِنَّ أَمْرَہُ کُلَّہُ لَہٗ خَیْرٌ! وَلَیْسَ ذَلِکَ لِأَحَدٍ إِلَّا لِلْمُؤْمِنِ، إِنْ أَصَابَتْہُ سَرَّائُ شَکَرَ فَکَانَ خَیْرًا لَہُ، وَإِنْ أَصَابَتْہُ ضَرَّائُ صَبَرَ فَکَانَ خَیْرًا لَہُ )) [1] ’’مومن کا معاملہ عجیب ہے، اس کی ہر حالت اس کے لیے بہتر ہے اور یہ سعادت مومن کے علاوہ اور کسی کو حاصل نہیں۔ اگر اسے آسودگی حاصل ہوتی ہے تو وہ شکر کرتا ہے تو یہ اس کے لیے بہتر ہے اور اگر اُسے نقصان پہنچتا ہے صبر کرتا ہے تو یہ اس کے لیے بہتر ہے۔‘‘ ایک صحابیہ کو مرگی کا دورہ پڑتا تھا، انھوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے دعا کی التماس کی تو آپ نے فرمایا: اگر تُو چاہے تو صبر کر تیرے لیے جنت ہے اور اگر چاہتی ہے تو میں دعا کرتا ہوں، کہ اللہ تمھیں شفا عطا فرمائے۔ اس نے عرض کیا کہ جب دورہ پڑتا ہے تو میں برہنہ ہو جاتی ہوں، بس آپ یہ دعا کر دیں کہ میں برہنہ نہ ہوا کروں۔ چنانچہ آپ نے یہ دعا کر دی۔ حضرت عبدالله بن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ حدیث بیان کرتے ہوئے اپنے تلمیذ رشید عطاء بن ابی رباح سے فرمایا: کیا میں تمھیں جنتی عورت نہ دکھاؤں؟ انھوں نے عرض [1] صحیح مسلم (۲۹۹۹).