کتاب: شرح حدیث ابن عباس - صفحہ 152
صبر کرنے والوں کو تین چیزوں سے نوازا گیا ہے؛ اللہ کی عنایات، اس کی رحمت اور ہدایت پر قائم رہنا۔ صبر کے علاوہ کسی اور عمل پر ان نوازشات کا اکٹھا ذکر نہیں۔ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( مَا أُعْطِيَ أَحَدٌ عَطَائً خَیْرًا وَ أَوْسَعُ مِنَ الصَّبْرِ )) [1] ’’کسی کو صبر سے بہتر اور وسیع کوئی چیز نہیں دی گئی۔‘‘ امام احمد رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ قرآن مجید میں صبر کا نوے مرتبہ ذکر ہے۔ انسان کے فلاح و فوز پانے کا یہ سبب ہے۔[2] صبر بلاحساب اجر پانے کا ذریعہ ہے۔[3] اللہ کی مدد و نصرت کا باعث ہے۔[4] دشمنوں کے مکر و فریب سے بچنے کا سبب ہے۔[5] اللہ کی بخشش و مغفرت اور اجرکبیر کا ذریعہ ہے۔[6] عزم و ہمت کا باعث صبر ہے۔[7] اللہ صبر کرنے والوں سے محبت کرتے ہیں۔[8] نقصان و خسران سے بچنے کا ذریعہ ہے۔[9] کئی مقامات پر اللہ تعالیٰ نے صبر کو ارکان ایمان و اسلام کے ساتھ ذکر کیا ہے، جیسے: نماز کے ساتھ۔[10] اعمال صالحہ کے ساتھ۔[11] تقویٰ کے ساتھ۔[12] شکر کے ساتھ۔[13] حق کے ساتھ۔[14] رحمت کے ساتھ۔[15] یقین کے ساتھ۔[16] صادقین کے ساتھ۔[17] توکل کے ساتھ۔[18] مزید تفصیل کے لیے ’’مدارج السالکین‘‘ (جلد: ۲) اور ’’عدۃ الصابرین‘‘ (ص: ۷۴) ملاحظہ فرمائیں۔ متعدد احادیث مبارکہ میں بھی صبر کی فضیلت بیان ہوئی، چنانچہ حضرت [1] صحیح البخاري (۱۴۶۹، ۶۴۷۰). [2] آل عمران [آیت: ۲۰۰]. [3] الزمر [آیت: ۱۰]. [4] البقرۃ [آیت: ۱۵۲] آل عمران [آیت: ۱۲۵]. [5] آل عمران [آیت: ۱۲۰]. [6] النحل [آیت: ۱۲۶]. [7] الشوریٰ [آیت: ۴۳] لقمان [آیت: ۱۷]. [8] آل عمران [آیت: ۱۴۶]. [9] سورۃ العصر. [10] البقرۃ [آیت: ۱۵۳]. [11] ہود [آیت: ۱۱]. [12] یوسف [آیت: ۹۰]. [13] لقمان [آیت: ۳۱]. [14] سورۃ العصر. [15] البلد [آیت: ۱۷]. [16] السجدۃ [آیت: ۲۴]. [17] آل عمران [آیت: ۱۶].. [18] العنکبوت [آیت: ۵۹] النحل [آیت: ۴۲]