کتاب: شرح حدیث ابن عباس - صفحہ 150
’’جو بھی آیت ہم منسوخ کرتے ہیں یا اسے بھلا دیتے ہیں، اس سے بہتر یا اس جیسی اور لے آتے ہیں۔‘‘ اور یہ ناسخ و منسوخ سب لوحِ محفوظ میں درج ہے کہ کون سا حکم کب تک باقی رہے گا اور کب مصلحت کے باعث منسوخ کیا جائے گا۔ اس کا دوسرا جواب یہ ہے کہ تقدیر کی دو قسمیں ہیں: ۱۔ تقدیر مبرم، جس میں تبدیلی نہیں ہوتی۔ ۲۔ تقدیر معلق، جو کسی سبب سے وابسطہ ہوتی ہے۔ جیسا کہ مندرجہ بالا احادیث میں بیان ہوا ہے، لیکن یہ تبدیلی اور اس کے اسباب، سب صحیفۂ تقدیر میں لکھے ہوئے ہیں، مثلاً کوئی شخص کسی فتنہ یا بیماری میں مبتلا ہے، وہ دعا کرتا ہے تو الله تعالیٰ اسے فتنے یا بیماری سے بچا لیتے ہیں۔ اب اس کا پہلے فتنہ میں مبتلا ہونا اور دعا سے اس کا زائل ہوجانا، دونوں نوشتۂ تقدیر میں لکھے ہوئے ہیں۔ معاذ الله ۔ یوں نہیں کہ وہ تقدیر کی بنا پر تو فتنہ میں مبتلا تھا، مگر اس کا دعا کرنا تقدیر میں نہیں تھا۔ اس نے دعا کی تو فتنہ سے بچ گیا۔ کیونکہ اس سے لازم آئے گا کہ ۔معاذالله ۔ الله تعالیٰ کا علم ناقص ہے۔ ہرگز ہرگز نہیں، الله سبحانہ وتعالیٰ کا علم کامل ہے اور صحیح ہے، اس سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں، یہی علم قلم کے ذریعہ الله سبحانہ وتعالیٰ نے لکھوایا ہے۔ تقدیر کا انکار گویا الله سبحانہ وتعالیٰ کے علم کا انکار ہے۔ نوٹ: ان کلمات کے بعد آئندہ زیرِ شرح کلمات مسند اِمام احمد (۱/۳۰۷) اور الاسماء و الصفات للبیھقی میں منقول ہیں اور یہ الفاظ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہیں۔[1] [1] الصحیحۃ (۲۳۸۲).