کتاب: شرح حدیث ابن عباس - صفحہ 148
نے مجھے حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے اور وہ موت پر اور موت کے بعد اٹھائے جانے پر ایمان لائے اور تقدیر پر ایمان لائے۔‘‘ سیدنا عبدالله بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا گیا کہ کچھ لوگ ایسے ہیں جو تقدیر پر ایمان نہیں رکھتے۔ انھوں نے فرمایا: جب تم ان سے ملو تو انھیں بتلا دو کہ میں ان سے بَری ہوں اور وہ مجھ سے بَری ہیں۔ پھر انھوں نے حلفاً فرمایا: ’’لَوْ أَنَّ لِأَحَدِہِمْ مِثْلَ أُحُدٍ ذَہَبًا فَأَنْفَقَہُ مَا قَبِلَ اللّٰہُ مِنْہُ حَتَّی یُؤْمِنَ بِالْقَدْرِ‘‘[1] ’’اگر ان میں سے کسی کے پاس احد پہاڑ کے برابر سونا ہو، پھر وہ اسے خرچ کر دے تو الله تعالیٰ اسے قبول نہیں کرے گا، تاآنکہ وہ تقدیر پر ایمان نہ لے آئے۔‘‘ تقدیر دراصل اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے علم کا اظہار ہے۔ اللہ تعالیٰ کا علم کامل اور صحیح ہے اس میں کسی کمی اور نقص کا کوئی شائبہ نہیں۔ اسی علم کو اللہ تعالیٰ نے قلم کے ذریعے لکھوایا ہے اس لیے جو ہونا ہے اسی صحیفۂ تقدیر کے مطابق ہونا ہے۔ تقدیر کا بہانہ بنا کر بے عملی کا مظاہرہ کرنا بے سود ہے۔ انسان کو حکم کی پابندی کرنی چاہیے اسی کا وہ مکلف ہے اور اسی میں اس کا امتحان ہے۔ یہ کیا بدنصیبی ہے کہ دنیا کے کسی کام کے لیے انسان تقدیر کا بہانہ نہیں بناتا بلکہ اس کے بارے میں پوری تگ و دو کرتا ہے مگر اطاعت اور بندگی میں تقدیر کو بہانہ بنا کر معترض ہوتا ہے اور اطاعت سے روگردانی اختیار کرتا ہے۔ فوا أسفا! ایک سوال کا جواب: یہاں ایک سوال ہے کہ اگر صحیفۂ تقدیر خشک ہوگیا ہے اور لکھنے والا قلم اٹھا لیا گیا۔ اب اس میں کسی چیز کی کمی بیشی نہیں ہوسکتی تو اس آیت کے کیا معنی ہیں: [1] مسلم، (۱).