کتاب: شرح حدیث ابن عباس - صفحہ 147
’’پس وہ جس نے (اللہ کی راہ میں) دیا اور (نافرمانی سے) بچا۔ اور اس نے سب سے اچھی بات کو سچ مانا۔ تو ہم اسے آسان راستے کے لیے سہولت دیں گے۔‘‘[1] یہ اور اسی موضوع کی دیگر بہت سی احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر اِنسان کے مقدر کا فیصلہ ہو چکا ہے۔ اسے وہی کچھ ملے گا جو نوشتۂ تقدیر ہے۔ تقدیر پر اِیمان ہمارے ایمانیات کا حصہ ہے، جیسا کہ حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ سے مروی حدیثِ جبریل میں ہے کہ اُنھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: ایمان کیا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’(( أَنْ تُؤْمِنَ بِاللّٰہِ وَمَلَائِکَتِہِ وَکُتُبِہِ وَرُسُلِہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ وَتُؤْمِنَ بِالْقَدْرِ خَیْرِہِ وَشَرِّہِ )) قَالَ: صَدَقْتَ‘‘[2] ’’ایمان یہ ہے کہ تُو اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی نازل کردہ کتابوں پر، اس کے رسولوں پر اور قیامت کے دن پر ایمان لائے اور تقدیر پر اس کی اچھائی اور اس کی برائی پر تیرا ایمان ہو۔ جبریل نے کہا: آپ نے سچ فرمایا۔‘‘ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( لَا یُؤْمِنُ عَبْدٌ حَتَّی یُؤْمِنَ بِأَرْبَعٍ: یَشْہَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَأَنِّيْ رَسُوْلُ اللّٰہِ بَعَثَنِيْ بِالْحَقِّ وَیُؤْمِنُ بِالْمَوْتِ وَیُؤْمِنُ بِالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ، وَیُؤْمِنُ بِالْقَدْرِ )) [3] ’’کوئی بندہ مومن نہیں ہوسکتا جب تک چار چیزوں پر ایمان نہ لائے، گواہی دے کہ الله کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں الله کا رسول ہوں، الله [1] صحیح البخاري (۴۹۴۵، ۴۹۴۹) مسلم۔. [2] صحیح البخاري (۵۰) صحیح مسلم (۹). [3] ترمذي، (۲۱۴۵) صحیح.