کتاب: شرح حدیث ابن عباس - صفحہ 143
(( رُفِعَتِ الْأَقْلَامُ وَجُفَّتِ الصُّحُفُ )) وفي روایۃ: ((وَقَدْ جُفَّ الْقَلَمُ بِمَا ھُوَ کَائِنٌ )) ’’قلم اٹھا لیے گئے اور صحیفے خشک ہوچکے۔‘‘ اور ایک روایت میں ہے: ’’بے شک جو کچھ ہونا تھا اسے لکھ کر قلم خشک ہوگیا ہے۔‘‘ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: (( یَا أَبَا ھُرَیْرَۃً! جُفَّ الْقَلَمُ لِمَا أَنْتَ لَاقٍ )) [1] ’’اے ابوہریرہ! جس حال یا چیز کو تم ملنے والے ہو، قلم اس کے ساتھ خشک ہو چکا ہے۔‘‘ اس میں صحیفۂ تقدیر کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے قلم سے جو لکھوانا تھا وہ لکھ دیا گیا۔ قلم لکھ کر خشک ہو چکا اور صحیفہ بھی خشک ہوگیا۔ اب مزید اس میں کچھ لکھا نہیں جائے گا۔ جو بھی ملے گا یا جو ہو گا، نوشتۂ تقدیر کے مطابق ہو گا۔ اس میں کمی بیشی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا! اس صحیفۂ تقدیر کا ذکر قرآن مجید میں بھی ہے، چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿ مَا أَصَابَ مِنْ مُصِيبَةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي أَنْفُسِكُمْ إِلَّا فِي كِتَابٍ مِنْ قَبْلِ أَنْ نَبْرَأَهَا إِنَّ ذَلِكَ عَلَى اللّٰه يَسِيرٌ (22) لِكَيْلَا تَأْسَوْا عَلَى مَا فَاتَكُمْ وَلَا تَفْرَحُوا بِمَا آتَاكُمْ وَاللّٰه لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ﴾ [الحدید: ۲۲، ۲۳] ’’کوئی مصیبت نہ زمین میں پہنچتی ہے اور نہ تمھاری جانوں پر مگر وہ ایک [1] صحیح البخاري (۵۰۷۲، ۵۰۷۶).