کتاب: شرح حدیث ابن عباس - صفحہ 14
تجھے اس سے زیادہ نفع نہیں پہنچا سکتی جو اللہ نے تیرے لیے لکھ دیا ہے۔ اور اگر وہ جمع ہو جائے کہ تجھے کچھ نقصان پہنچائے تو وہ اس سے زیادہ کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتی جو اللہ نے تیرے لیے لکھ دیا ہے۔ قلم اٹھا لیے گئے اور صحیفے خشک ہو گئے۔‘‘ اسنادی حیثیت: امام ترمذی رحمہ اللہ نے اسے ’’حسن صحیح‘‘ کہا ہے، حافظ ابن مندہ نے کہا ہے: ’’ہذا إسناد مشہور و رواتہ ثقات‘‘ حافظ ابن حجر نے بلوغ المرام کی کتاب الجامع میں ترمذی سے یہی روایت اختصاراً ذکر کی ہے اور امام ترمذی سے اس کا حسن صحیح ہونا نقل کیا ہے۔ علامہ نووی رحمہ اللہ نے ’’الأربعین‘‘ اور ’’ریاض الصالحین‘‘ میں یہ حدیث ذکر کی ہے اور امام ترمذی سے اس کی تحسین و تصحیح نقل کی ہے۔ علامہ ابن رجب رحمہ اللہ نے ترمذی کی سند کو ’’حسن جید‘‘ قرار دیا ہے۔ ’’جامع العلوم والحکم‘‘ (ص: ۱۶۱) اور ’’نور الاقتباس في مشکاۃ وصیۃ النبي صلي اللّٰه عليه وسلم لابن عباس‘‘ (ص: ۳۱) میں فرمایا ہے: ’’إسناد حسن لا بأس بہ‘‘ علامہ البانی نے بھی اسے صحیح کہا ہے۔[1] یہ حدیث جامع ترمذی، مسند امام احمد، مسند ابویعلیٰ وغیرہ کتبِ احادیث میں حنش بن عبداللہ صنعانی حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں۔ ’’مسند امام احمد‘‘ (۱/۳۰۷)، ’’شعب الإیمان‘‘ (۱/ ۱۴۸) اور ’’الأسماء و الصفات للبیہقي‘‘ (۱/ ۱۳۵) میں بھی یہ روایت حنش صنعانی کے واسطہ سے مروی ہے، مگر اس میں بعض الفاظ زائد ہیں، جن کی وضاحت ۔ان شاء اللہ۔ اپنے [1] ظلال الجنۃ (۱/۱۳۸) حاشیۃ مشکاۃ (۵۳۰۲).