کتاب: شرح حدیث ابن عباس - صفحہ 138
نے کہا تھا کہ مدینہ طیبہ کے اندر رہ کر لڑنا چاہیے ہماری بات تسلیم کر لی جاتی تو یہ جانی نقصان نہ ہوتا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں فرمایا: ﴿قُلْ لَوْ كُنْتُمْ فِي بُيُوتِكُمْ لَبَرَزَ الَّذِينَ كُتِبَ عَلَيْهِمُ الْقَتْلُ إِلَى مَضَاجِعِهِمْ ﴾ [آل عمران: ۱۵۴] ’’کہہ دے اگر تم اپنے گھروں میں ہوتے تب بھی جن لوگوں پر قتل ہونا لکھا جا چکا تھا اپنے لیٹنے کی جگہوں کی طرف ضرور نکل آتے۔‘‘ یعنی اگر تم اپنے گھروں میں بیٹھے رہتے مگر جن کے مقدر میں قتل ہونا تھا وہ ضرور اپنے گھروں سے نکلتے اور جہاں مارا جانا لکھا تھا اسی جگہ پہنچ کر مارے جاتے۔ اللہ کے فیصلے سے بچنے کی کوئی سبیل نہیں ہوسکتی۔ حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( إِنَّ لِکُلِّ شَيْئٍ حَقِیْقَۃً وَمَا بَلَغَ عَبْدٌ حَقِیْقَۃَ الْإِیْمَانِ حَتَّی یَعْلَمَ إِنْ مَا أَصَابَہٗ لَمْ یَکُنْ لِیُخْطِئَہٗ وَمَا أَخْطَأَہٗ لَمْ یَکُنْ لِیُصِیْبَہٗ )) [1] ’’ہر چیز کی ایک حقیقت ہے اور کوئی بندہ حقیقتِ ایمان کو نہیں پاسکتا جب تک یہ نہ جان لے کہ جو مصیبت تجھے پہنچی ہے وہ تجھ سے ٹلنے والی نہیں اور جو مصیبت تجھے نہیں پہنچی وہ تجھے پہنچنے والی نہ تھی۔‘‘ اسی مفہوم کی حدیث ایک طویل روایت میں حضرت زید بن ثابت سے صحیح سند سے مروی ہے۔[2] حقیقت یہ ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی اس زیرِ شرح حدیث کا دار و مدار اسی بنیاد پر ہے اور باقی تمام باتیں اسی سے ملی ہوئی ہیں کیوں کہ جب انسان اس [1] أحمد (۶/ ۴۴۱، ۴۴۲) الطبراني و رجالہ ثقات، المجمع (۷/ ۹۷) وغیرہ. [2] مسند إمام أحمد (۵/ ۱۸۵، ۱۸۹)، أبو داود (۴۶۹۹) ابن ماجہ، (۷۷).